1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے اوباما کے ساتھ شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تاحال اس عہدے پر فائز باراک اوباما کے مابین شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ اوباما ’اشتعال انگیز بیانات‘ کے ساتھ اقتدار کی پرامن منتقلی کو ناکام بنا رہے ہیں۔

امریکا میں پام بیچ سے جمعرات انتیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ اور باراک اوباما دونوں نے ہی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے باہمی سیاسی اختلافات کو منظر عام پر نہ لائیں اور اس طرح بیس جنوری کے روز امریکا میں اقتدار کی منتقلی کو زیادہ سے زیادہ حد تک معمول کے مطابق اور کسی بھی تناؤ سے دور رکھا جا سکے۔

لیکن بدھ اٹھائیس دسمبر کی صبح نو منتخب ریپبلکن صدر ٹرمپ نے ہر طرح کی ممکنہ دلی گرمجوشی کو ایک طرف کرتے ہوئے ریاست فلوریڈا میں اپنی اسٹیٹ سے ٹوئٹر پر ایسے پیغامات جاری کرنا شروع کر دیے، جنہیں عوامی سطح پر ’سیاسی خوش اخلاقی کا مظاہرہ‘ تو کسی بھی طرح نہیں کہا جا سکتا۔

اے ایف پی کے مطابق 70 سالہ ٹرمپ نے، جو قریب تین ہفتوں بعد امریکی صدر کے طور پر اوباما کے پس رو بن جائیں گے، اپنے پیش رو کے نام اب تک کبھی نظر نہ آنے والا ایک طرح سے ذاتی مذمتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا: ’’(میری) پوری کوشش ہے کہ صدر او (اوباما) کے اب تک کے کئی اشتعال انگیز بیانات اور ان کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو نظر انداز کرتا رہوں۔‘‘

اس کے بعد ٹرمپ نے اپنی اگلی ٹویٹ میں لکھا: ’’سوچا تھا کہ (اقتدار کی منتقلی سے پہلے کا) عبوری عرصہ پرسکون اور تناؤ سے پاک ہو گا، لیکن نہیں!‘‘

اہم بات یہ ہے کہ یہ لکھنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر اپنے ان ریمارکس سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ بھی کہہ دیا کہ جنوری میں اقتدار کی منتقلی سے پہلے کا عبوری عرصہ اور سرکاری کارروائی ’بہت ہی اچھے‘ جا رہے ہیں۔

USA Washington Treffen Obama und Amtsnachfolger Trump (Reuters/K. Lamarque)

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی کامیابی کے دو روز بعد وائٹ ہاؤس مین باراک اوباما کے ساتھ ایک باقاعدہ ملاقات بھی کی تھی

اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اوباما سے بات چیت کی ہے، جو ’بہت ہی عمدہ رہی‘ اور ’فون کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا گیا‘۔ ساتھ ہی ارب پتی بزنس مین ٹرمپ نے مزید کہا، ’’میں نے سوچا کہ ہم نے تو دراصل کئی امور پر گفتگو کی ہے۔‘‘

ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈیموکریٹ باراک اوباما کے ساتھ عوامی سطح پر کھل کر سامنے آ جانے والے انہی سیاسی اختلافات کے بارے میں اے ایف پی نے امریکی ریاست فلوریڈا سے لکھا ہے کہ صدر اوباما پر ’جلتی پر تیل ڈالنے‘ کا الزام لگانے والے ٹرمپ نے بعد ازاں اپنے ان ریمارکس کا اثر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ’’ہمارا عملہ اپنی اپنی جگہ پر بہت اچھی طرح تعاون کر رہا ہے۔ میرا بھی ان (اوباما) کے ساتھ اشراک عمل بہت ہی اچھا جا رہا ہے، سوائے میرے ان چند بیانات کے جو میں نے ردعمل میں دیے تھے۔‘‘

اس بارے میں صدر اوباما کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی طرف سے بس اتنا ہی کہا گیا، ’’فون کال کے دوران بہت اچھی گفتگو ہوئی، جس میں آسان اور مؤثر انداز میں اقتدار کی منتقلی پر توجہ مرکوز رکھنے کی بات کی گئی۔ ترجمان کے مطابق اوباما اور ٹرمپ دونوں نے ہی آئندہ ہفتوں کے دوران بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے کا عزم ظاہر کیا۔

DW.COM