1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی صدارت شروع، دنیا بھر میں خواتین کی احتجاجی ریلیاں

دنیا بھر میں آج ہفتے کے روز خواتین نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوں گی۔ ایسے ہی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں خواتین شریک ہوئیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدارت سنبھالنے کے خلاف آسٹریلوی شہر سڈنی میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں ہزاروں خواتین نے شرکت کی۔ آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا میں بھی سینکڑوں خواتین ٹرمپ مخالف احتجاج میں شریک تھیں۔ ایسے ہی مظاہرے نیوزی لینڈ کے دو بڑے شہروں آک لینڈ اور ویلِنگٹن میں بھی ہوئے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھی ایک بہت بڑے مظاہرے میں ہزاروں خواتین کی شرکت متوقع ہے۔

سڈنی کے سینٹرل ہائیڈ پارک میں سات ہزار سے زائد خواتین کی بیس جنوری کو منصب صدارت سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے میں شریک تھیں۔ انہوں نے ایسے بینر اٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا کہ وہ دنیا بھر میں مزاحمت کریں گی، نسائیت اُن کا ٹرمپ کارڈ ہے اور وہ لڑکیوں کی طرح لڑیں گی۔ دنیا کے چھ سو مختلف شہروں میں گلوبل ویمنز مارچ کا انتظام کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی ٹرمپ مخالف احتجاجی مظاہرے جرمنی اور برطانیہ میں ہوئے۔

Donald Trump Protest Berlin Deutschland (picture-alliance/dpa/M.Sohn)

جرمن دارالحکومت برلن میں ٹرمپ مخالف مظاہرہ

مظاہرین اِس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے میں دنیا بھر میں نفرت اور کٹر رویوں میں اضافہ ہو گا۔ آسٹریلیا میں آج ہفتہ، اکیس جنوری کے احتجاج کی منتظم مینڈی فرائی بینڈ کا کہنا تھا کہ نسل پرستی صرف امریکا کا مسئلہ نہیں ہے اور ایسے رویوں کے خلاف آج کا احتجاج ایک تحریک کا آغاز ہے۔

جمعہ، بیس جنوری کو فلپائنی دارالحکومت منیلا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک بڑے مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس مظاہرے کا انتظام فلپائن کے بائیں بازو کے رہنماؤں نے کیا تھا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بائیں بازو کے خواتین گروپ گابریئلا کی سیکرٹری جنرل خومس سلواڈور کا کہنا تھا کہ امریکی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے بیانات سے امریکا میں مقیم لاکھوں فلپائنی باشندوں کو معاشی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

خاتون لیڈر کے مطابق ٹرمپ کا امریکی صدر کا منصب سنبھالنا اقوام عالم کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ فلپائن امریکا کی سابقہ کالونی رہ چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان برسوں سے اقتصادی و عسکری تعلقات انتہائی گہرے رہے ہیں۔ بائیں بازو کے سیاسی حلقے امریکی پالیسیوں کے کڑے ناقد رہے ہیں۔