1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی شمالی کوریا کے معاملے پر ایشیائی رہنماؤں سے بات چیت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے بڑھتے تنازعے پر ایشیائی وزرائے اعظموں سے بات چیت کی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ پیونگ یانگ کے خلاف کسی بھی شکل میں فوجی کارروائی کی کوشش کریں گے یا نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز  کے مطابق امریکی صدر نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خطے کو لاحق ممکنہ خطرات کے تناظر میں تھائی لینڈ اور سنگا پور کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات کی اور انہیں واشنگٹن آنے کی دعوت بھی دی۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے ایشیائی رہنماؤں سے فون پر رابطہ شمالی کوریا کے دو روز قبل کیے میزائل کے ایک اور ناکام تجربے کے بعد کیا۔ اس میزائل تجربے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔

 ایک امریکی اہلکار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا،’’ ٹرمپ اور ایشیائی رہنماؤں نے شمالی کوریا پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ برقرار رکھنے کے طریقوں پر بات کی۔‘‘ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے موضوعات بھی زیرِ بحث رہے۔

 امریکی صدر نے ایک ہفتے قبل شمالی کوریا کے مسئلے پر چین اور جاپان کے لیڈران سے بھی بات کی تھی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ایک بہت بڑا تنازعہ جنم لے سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اس ہفتے کے اختتام پر فلپائنی صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے سے بھی اس مسئلے پر بات کی اور انہیں بھی واشنگٹن آنے کی دعوت دی تھی۔

ٹرمپ کے ترجمان نے آج پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے وزیر اعظم اور  فوج کے سابق سربراہ پریوت چھن اوچھا نے امریکی صدر کی جانب سے واشنگٹن آمد کا دعوت نامہ قبول کر لیا ہے۔

شمالی کوریا نے ایک ایسے وقت میں یہ نیا میزائل تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے، جب جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ طیارہ بردار امریکی بحری جہاز کوریائی سمندری حدود میں لنگر انداز ہو چکا ہے جبکہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی افواج جنگی مشقوں میں مصروف ہیں۔

DW.COM