1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی حمایت؟ اسرائیل میں سینکڑوں یہودی گھروں کی تعمیر کی منظوری

اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کے لیے سینکڑوں نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پیشرفت ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے محض دو روز بعد سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ آج اتوار 22 جنوری کی شام کو نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت بھی کریں گے جس میں اسرائیل اور فلسطین کے علاوہ ایران کے معاملے پر بھی بات ہو گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  مشرقی یروشلم میں تین مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 566 نئے یہودی گھروں کی تعمیر کی اجازت دی گئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق گزشتہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر تنقید اور گزشتہ برس دسمبر میں اس کے خلاف سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے بعد نیتن یاہو کی درخواست پر نئے گھروں کی تعمیر کی اجازت دینے کے معاملے کو التواء میں رکھا گیا تھا۔ اسرائیل کی طرف سے انتظار کیا جا رہا تھا کہ نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ صدارت سنبھال لیں۔ اسرائیل کو امید ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے اس اقدام کی حمایت کی جائے گی۔

Israel Benjamin Netanjahu (Reuters/A. Sultan)

بہت سے معاملات کا ہمیں سامنا ہے، اسرائیل فلسطین کا مسئلہ، شام کی صورتحال اور ایرانی خطرہ، نیتن یاہو

یروشلم کے ڈپٹی میئر نے اے ایف پی کو بتایا کہ مشرقی یروشلم میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید 1100 گھروں کی تعمیر کا معاملہ بھی زیر غور ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس بارے میں حتمی منظوری کب دی جائے گی۔ میر ترجیمان جو ان گھروں کی تعمیر کی اجازت دینے والی پلاننگ کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، کہنا تھا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر عہدہ سنبھالنے کے بعد کھیل کے اصول بدل گئے ہیں۔۔۔ اب ہمارے ہاتھ اُس طرح سے مزید بندھے ہوئے نہیں ہیں جیسے باراک اوباما کے وقت میں تھے۔ بالآخر اب ہم تعمیر کر سکتے ہیں۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے آج اتوار کی صبح بتایا گیا کہ وہ آج شام نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار بات چیت کریں گے۔ نیتن یاہو کے مطابق بذریعہ ٹیلی فون ہونے والی اس بات چیت میں کئی ایک معاملات زیر غور آئیں گے۔ اپنی کابینہ کی میٹنگ کے آغاز پر بات چیت کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا: ’’بہت سے معاملات کا ہمیں سامنا ہے، اسرائیل فلسطین کا مسئلہ، شام کی صورتحال اور ایرانی خطرہ۔‘‘