ٹرمپ کی ایرانی جوہری معاہدہ ’ٹھیک‘ کرنے کے لیے ’آخری مہلت‘ | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی ایرانی جوہری معاہدہ ’ٹھیک‘ کرنے کے لیے ’آخری مہلت‘

ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے شدہ عالمی معاہدے کو ’آخری مہلت‘ دیتے ہوئے ملکی کانگریس اور یورپی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں اس معاہدے میں پائی جانے والی ’تباہ کن خامیوں‘ کو ٹھیک کرنا ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ بارہ جنوری کے روز سن 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین طے پانے والے جوہری معاہدے کو ’آخری موقع‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ امریکی صدر جوہری معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔

امریکا نے داخلی معاملے میں مداخلت کی ہے، ایران

ایرانی جوہری ڈیل کا مستقبل دوبارہ ٹرمپ کے ہاتھ میں

تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک ’آخری مہلت‘ دینے کا اعلان کرتے ہوئے معاہدے میں شامل امریکا کے یورپی اتحادیوں کو تنبیہ کی ہے کہ اگلے 120 روز کے اندر اس ڈیل میں پائی جانے والی ’تباہ کن خامیاں‘ ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر امریکا اس معاہدے سے نکل جائے گا۔

امریکی صدر کے اس ’الٹیمیٹم‘ کے بعد معاہدہ طے کرانے والے اہم یورپی ممالک کو مہلت ختم ہونے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو مطمئن کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یورپی اتحادی اور امریکا مل کر ایران کے ساتھ ایک اور ضمنی معاہدہ کریں، جس میں ایرانی ایٹمی پروگرام کے بارے میں مزید سخت اقدامات شامل کیے جائیں۔

گزشتہ روز امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’میری سخت خواہش کے باوجود فی الحال میں نے ایران نیوکلیر ڈیل سے امریکا کے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ بلکہ میں نے اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں دو راستے پیش کیے ہیں، یا تو اس میں پائی جانے والی تباہ کن خامیاں ختم کی جائیں، یا پھر امریکا اس معاہدے سے پیچھے ہٹ جائے گا۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر کی اس تنبیہ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کی شرائط دوبارہ طے نہیں کی جا سکتیں اور صدر ٹرمپ کا موقف ’ان کی مایوسی کی کیفیت میں اس ٹھوس اور کثیر الجہتی معاہدے کو ختم کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے‘۔

صدر ٹرمپ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور اقتدار میں طے پانے والے اس معاہدے کے مخالف ہیں اور وہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔

اس تازہ پیش رفت کے بعد یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین امریکی صدر کے اس نئے فیصلے کو بغور دیکھا ہے اور اس کے ممکنہ مضمرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک یورپی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے موجودہ موقف کے بعد معاہدے کو قائم رکھنا انتہائی پیچیدہ عمل بن جائے گا۔

فی الحال موجودہ سہ ماہی کے دوران ایرانی جوہری معاہدے سے نہ نکلنے کے فیصلے کے بعد اس معاہدے کے مطابق ایران پر امریکی پابندیاں بھی عائد نہیں کی گئیں۔ تاہم امریکا نے الگ سے چودہ ایرانی اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے انتہائی قریبی ساتھی تصور کیے جانے والے ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق آملی لاریجانی پر بھی پانبدیاں عائد کی گئی ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا گیا، ’’میں یورپی ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس معاہدے میں پائی جانے والی بڑی خامیوں کے خاتمے، ایرانی جارحیت کے مقابلے اور ایرانی عوام کی حمایت کے لیے امریکا کا ساتھ دیں۔‘‘

جمعرات گیارہ جنوری کے روز جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا اعلان نہ کریں۔

امریکا پاکستان کے خلاف کون سے اقدامات اٹھا سکتا ہے؟

ایران کے خلاف ٹرمپ کو ناکامی دیکھنا پڑے گی، خامنہ ای

ویڈیو دیکھیے 02:37

قطر کا بحران: کون کس کے ساتھ ہے؟

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات