1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی امیگریشن پابندیاں، امریکی عدالت نے عمل درآمد روک دیا

امریکا کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین پر بالعموم اور سات مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں کی قانونی طور پر امریکا آمد پر عائد کردہ پابندی پر پورے ملک میں عمل درآمد روک دیا ہے۔

واشنگٹن سے ہفتہ چار فروری کی صبح ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ تین فروری کی رات ریاست واشنگٹن میں سیاٹل کی ایک فیڈرل کورٹ کے جج جیمز رابرٹ نے سنایا، جس کے تحت اس صدارتی حکم نامے کو عارضی طور پر غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اس پر پورے ملک میں عمل درآمد روک دیا گیا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے قریب ایک ہفتہ قبل ستائیس جنوری کو دستخط کیے تھے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ ایک عبوری فیصلہ ہے، لیکن یہ صدر ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق صدارتی حکم نامے اور خود صدر کے اقدامات کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔

ٹرمپ کی طرف سے سفری پابندی اور یورپی رہنماؤں کا ردعمل

ٹرمپ کے حکم نے خاندانوں کو تقسیم کر کے رکھ دیا

امریکی عدالت نے ٹرمپ کے حکم کو معطل کر دیا، ملک بدری کا عمل روک دیا

اس فیصلے کے بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اس فیصلے کو ابھی بھی ’مناسب اور قانونی‘ خیال کرتی ہے اور امریکی محکمہء انصاف اس عدالتی فیصلے کے خلاف ایک ہنگامی اپیل دائر کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے تاہم کہا گیا کہ فوری طور پر سیاٹل کی ایک فیڈرل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکم  امتناعی کے لیے کوئی جوابی عدالتی کارروائی نہیں کی جائے گی بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ملکی محکمہء انصاف اس فیصلے کے خلاف بلا تاخیر اپیل کرے گا۔

امریکا میں سیاٹل، بوسٹن، نیو یارک اور واشنگٹن سے ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے چند ہی گھنٹے بعد امریکا کے کسٹمز اور قومی سرحدوں کی حفاظت کے ملکی محکمے کی طرف سے تمام فضائی کمپنیوں کو یہ کہہ دیا گیا کہ وہ اپنی تجارتی پروازوں کے ذریعے ایسے مسافروں کو پھر سے امریکا لانا شروع کر سکتی ہیں، جنہیں اس عدالتی فیصلے سے قبل کسی مہاجر یا پابندی سے متاثرہ سات ملکوں کے کسی شہری کو امریکا لانے کی اجازت نہیں تھی۔

صدر ٹرمپ کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتہ بعد ستائیس جنوری کو جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکا کے درجنوں بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اس وقت انتہائی پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جب باقاعدہ ویزا لے کر آنے والے ہزاروں غیر ملکیوں کو امریکا میں داخلے کے اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ تب امریکا کے مختلف شہروں میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے بھی شروع ہو گئے تھے۔

یہ سات مسلم اکثریتی ملک ایران، عراق، شام، لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن ہیں، جن کے شہریوں کو، چاہے وہ پہلی بار امریکا آ رہے تھے یا پہلے سے امریکا ہی میں مقیم تھے لیکن بیرون ملک سے واپس لوٹ رہے تھے، دوبارہ امریکا داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ تین فروری کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کی عائد کردہ ان امیگریشن پابندیوں کے بعد انہی سات ملکوں کے کم از کم چھ ہزار شہریوں کو جاری کردہ ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ اب جب کہ سیاٹل کی عدالت نے صدر ٹرمپ کے حکم کے خلاف اپنا عبوری فیصلہ سنا دیا ہے، یہ بات ہنوز غیر واضح ہے کہ ان ہزاروں غیر ملکیوں کے امریکی ویزوں کی قانونی حیثیت اور امریکا میں داخلے کے حوالے سے عملی صورت حال کیا ہو گی۔

تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے اگرچہ تمام ایئر لائنز کو کہہ دیا ہے کہ اب وہ دوبارہ ان سات ملکوں کے شہریوں کو مسافروں کے طور پر امریکا لا سکتی ہیں، تاہم ایرانی ایئر لائنز ابھی تک ایسے مسافروں کو اپنی پروازوں میں امریکا لانے سے احتراز کر رہی ہیں۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ سیاٹل کی ایک فیڈرل کورٹ نے جمعے کی رات اپنا جو فیصلہ دیا، وہ ایک ایسے مقدمے میں سنایا گیا، جو ریاست واشنگٹن کی طرف سے دائر کیا گیا تھا اور جس میں بعد میں ریاست منیسوٹا بھی شامل ہو گئی تھی۔

DW.COM