1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی ’اسلام کے پرامن تصور کی امید‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے اپنے دورےکے دوران آج اسلام کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس سے قبل انہوں نے کئی عرب ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کیں۔

عرب اسلامی امریکی سربراہی اجلاس سے خطاب میں ٹرمپ ’اسلام کے ایک پرامن تصور کی امید‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ ریاض میں ہونے والے اس اجلاس پچاس دیگر مسلم ممالک کے سربراہان بھی شریک ہو رہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صدر بننے کے بعد ٹرمپ اسلام کے موضوع پر باقاعدہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2009 میں قاہرہ میں اسلامی دنیا کو مخاطب کیا تھا۔ اوباما کی تقریر کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد مسلم دنیا اور امریکا کے تعلقات میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کو دور کر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے آج سعودی دارالحکومت ریاض میں مختلف عرب ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کیں۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مصر کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کر لی ہے، ’’میں جلد ہی مصر جاؤں گا۔‘‘ اس موقع پر ٹرمپ نے السیسی کے جوتوں کی بھی کھل کر تعریف کی۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد السیسی انہیں مبارکباد دینے والے پہلے مسلم سربراہ مملکت تھے۔ اس ملاقات میں السیسی نے ٹرمپ کو ایک منفرد شخصیت قرار دیا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے بات چیت میں عسکری معاہدوں کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ کے بقول، ’’ہم نے اس ملاقات میں امریکا کے خوبصورت عسکری آلات کی فروخت پر بات کی کیونکہ امریکا کی طرح انہیں کوئی بھی تیار نہیں کر سکتا۔‘‘ اسی طرح بحرین کے شاہ حماد بن عیسٰی الخلیفہ سے بات چیت کے دوران ٹرمپ نے کہا  کہ امریکا کے اس عرب ریاست کے ساتھ شاندار روابط ہیں۔ تاہم اس دوران انہوں نے ان تعلقات میں پڑنے والی دراڑ کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی روابط کو دوبارہ سے پہلے کی طرح بحال کر دیا جائے گا۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کس وجہ سے کشیدگی آئی تھی۔