1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کو برطانیہ داخل نہ ہونے دیا جائے، ہزاروں افراد کی پٹیشن

برطانیہ کے ہزاروں افراد نے امریکی سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ داخل ہونے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان افراد نے ٹرمپ کے خلاف ایک پٹیشن پر دستخط بھی کیے ہیں۔

default

ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کےخلاف ہزاروں افراد کی یہ پٹیشن برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ہے۔ منگل کی شام میں یہ پٹیشن ایک سکاٹش خاتون شہری سوزانے کیلی نے پوسٹ کی۔ اِس پر ستر ہزار برطانوی شہریوں نے دستخط کیے ہیں۔ اِن افراد نے مسلمانوں کے خلاف بیان دینے کے تناظر میں اِس پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھنے والے ڈولڈ ٹرمپ نے انہی ایام میں امریکا میں مسلمانوں کے داخل ہونے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

سوزانے کیلی ماضی میں بھی امریکی سیاستدان کی ناقد رہ چکی ہیں۔ اِس پٹیشن میں اُنہوں نے درج کیا ہے کہ برطانیہ نے کئی افراد کو نفرت انگیز تقاریر یا بیانات دینے کے تناظر میں ویزا یا اُن کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے اور اب اُسی اصول کی روشنی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی برطانیہ داخل ہونے سے روک دیا جائے۔ ستر ہزار افراد کے دستخطوں کی حامل پٹیشن میں یہ بھی درج ہیں کہ ضوابط امیر و غریب کے ساتھ ساتھ کمزور و طاقتور، سب کے لیے مساوی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔

USA Präsidentschaftswahl Kanditat der Republikaner Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ کے لیک جلسے میں لوگ ان کے خلاف آوازے کستے ہوئے

یہ امر اہم ہے کہ اگر اِس پٹیشن پر دستخطوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی تو اِس پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کا جواز پیدا ہو جائے گا۔ اِس پٹیشن پر برطانوی حکومت کے ردِ عمل کا انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ دس ہزار دستخطوں کے بعد کسی بھی ایسی پٹیشن کا باضابطہ جواب دینا حکومت کے لیے لازمی ہوتا ہے۔ اسی طرح برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا دارالعوام کے چھ اراکین نے ایک ایسی قرارداد کے مسودے پر دستخط کیے ہیں جو لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن عمران حسین اگلے دنوں میں پارلیمنٹ میں بحث کے لیے جمع کروانا چاہتے ہیں۔ اِس میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانوی داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کی امریکا آمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ گزشتہ ہفتے کے دوران کیلیفورنیا ریاست کے ایک قصبے میں ہونے والے اُس حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک مسلمان جوڑے نے فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں نے اِس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔ پیر کی شام یارک ٹاؤن میں اپنی 55 منٹ کی تقریر میں ٹرمپ نے کہا تھا حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر امریکا کو ورلڈ ٹرید سینٹر جیسے حملوں کا سامنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے ٹرمپ کے اس بیان کو امریکی اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔