1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کا فیصلہ: پاکستان میں غم و غصے کی لہر

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کیے جانے کے فیصلے سے پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وزیرِ اعظم ہاوس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکی سفارت خانے کی یروشلم میں منتقلی کی بھر پور مخالفت کرتا ہے،’’یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قابلِ اطلاق قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اس فیصلے کے خلاف بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہے اور اس فیصلے سے عالمی امن و استحکام اور خصوصاﹰ مشرق وسطیٰ کے امن پر جو اثرات مرتب ہوں گے، اس پر اسلام آباد کو تشویش ہے۔ پاکستان ترکی کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتا ہے، جس میں انقرہ نے اس مسئلے پر بحث کر نے کے لئے اگلے ہفتے اسلامی ممالک کی غیر معمولی کانفرنس بلانے کا کہا ہے۔‘‘


پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ صورتِ حال کا جائزہ لے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اقدامات اٹھائے۔ اسلام آباد نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ اس فیصلے کے خطے اور خطے سے باہر پڑنے والے ممکنہ سنگین اثرات سے بچا جا سکے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی اس فیصلے کے خلاف ایک بیان جاری کیا ہے۔
پاکستان میں مذہبی تنظیموں نے اس فیصلے کے فورا بعد ملک میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ جماعت الدعوہ اور دفاعِ پاکستان کونسل نے آج ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور پشاور سمیت کئی شہروں میں ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے، جہاں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے اور کچھ مقامات پر امریکی و اسرائیلی پرچموں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا۔

دفاع پاکستان کونسل کل بروز جمعہ بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کرے گی جب کہ اتوار کو اس فیصلے کے خلاف کراچی میں ایک بڑا مارچ کیا جائے گا۔ راولپنڈی میں شرکاء نے احتجاجی بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر ’’امریکی اقدام نا منظور نا منظور ، قبلہِ اول بیت المقدس مسلمانوں کا تھا اور رہے گا، امریکی اقدام امتِ مسلمہ کے دل پر حملہ ہے‘‘، جیسے نعرے درج تھے۔ جماعتِ اسلامی اور مجلس وحدتِ مسلمین نے بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ یہ مظاہرے ملک بھر میں کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مجلسِ وحدتِ مسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا، ’’ٹرمپ کا فیصلہ تمام بین الاقوامی قوانین روندنے کے مترادف ہے۔ امتِ مسلمہ اس مسئلے پر چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ٹرمپ نے امتِ مسلمہ پر ضرب لگانے کی کوشش کی ہے۔ بد قسمتی سے چند عرب حکمراں بھی امریکا سے ملے ہوئے ہیں اور وہ اس سے ہتھیار خریدتے ہیں۔‘‘


اس فیصلے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے حکومتی جماعت کے ایک اہم رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم او آئی سی اور تمام بین الاقوامی فورموں سے رابطے میں ہیں اور ہم اس مسئلے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ بیت المقدس مسلمانوں کے لئے ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام کی دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے۔ سکیورٹی کونسل اور عرب لیگ نے بھی اس اقدام کی بھر پور مذمت کی ہے اور ہم بھی اس مسئلے کو ہر جگہ اٹھائیں گے۔‘‘
کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر سعودی عرب ہوگا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں اس فیصلے سے سعودی عرب کو نقصان اور ایران کو فائدہ ہوگا، ’’ایران شروع ہی سے اسرائیل مخالف رہا ہے جب کہ عرب ممالک کی اس حوالے سے پالیسی اتار چڑھاو کا شکار رہی۔ اب اس فیصلے سے مسلم ممالک میں ایران اور ترکی کا سیاسی قد بڑھے گا جب کہ سعودی عرب ، جس نے حالیہ برسوں میں اسرائیل سے خفیہ تعلقات قائم کئے، اسے اس فیصلے سے سخت نقصان پہنچے گا اور مسلمان ممالک میں لوگ اس کی قائدانہ صلاحیتوں پر سوالات بھی اٹھائیں گے۔‘‘
پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ڈاکڑ امان میمن کے خیال میں اس فیصلے کے تین بڑے اثرات مرتب ہوں گے،’’میرے خیال میں سعودی عرب اور اسرائیل مل کر جو ایران کے خلاف ایک محاذ بنا رہے تھے، اس فیصلے سے انہیں بہت بڑا دھچکا لگے گا۔ ایران کا اثر و رسوخ مشرقِ وسطیٰ اور دوسرے خطوں میں بڑھے گا۔ انتہا پسند اس فیصلے کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف استعمال کریں گے جب کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ شام اور لیبیا میں عرب قوم پرست اس مسئلے کو بھر پور طریقے سے اٹھا کر عرب قوم پرستی کو ایک بار پھر زندہ کریں۔‘‘
معروف سیاست دان اور سابق وزیرِ مملکت برائے صنعت وپیداوار آیت اللہ درانی کے خیال میں یہ فیصلہ کسی ایک ملک کا نہیں ہے،’’سعودی عرب اور امریکا کے اتنے خوشگوار تعلقات ہیں۔ ان کے مضبوط تجارتی رشتے ہیں، تو کیا آپ کے خیال میں واشنگٹن نے ریاض کو اس مسئلے پر اعتماد میں نہیں لیا ہوگا۔ میرے خیال میں اس فیصلے پر سعودی عرب ، اسرائیل اور امریکا کے درمیان ہم آہنگی ہے۔‘‘