1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کا ایشیا کے دورے سے قبل ہوائی میں قیام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کے اپنے گیارہ روزہ دورے سے قبل ہوائی میں ہیں۔ اس موقع پر وہ پرل ہاربر بھی گئے اور فوجی افسران سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وہ آج جاپان کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک مختصر قیام کے لیے ہوائی پہنچے۔ اس دوران  ٹرمپ نے ہوائی میں پرل ہاربر  یادگار کا بھی دورہ کیا۔ یہ میموریل دسمبر 1941 ء میں جاپان کے اچانک حملے میں ہلاک ہونے والے دو ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔

وہ اتوار پانچ نومبر کے روز جاپان سے اپنے دورہ ایشیا کا آغاز کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تمام ممالک شمالی کوریا پر میزائل اور جوہری سرگرمیاں روکنے کے حوالے سے دباؤ ڈالیں۔ اس دوران ٹرمپ ریاست آلاسکا کے گورنر، ہوائی اور امریکی پیسیفک خطے کی کمانڈ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے کسی حملے کا ہدف ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ اور امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ جمعے کی سہ پہر ہوائی پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے آٹوگراف دیے اور وہاں موجود بچوں کے ساتھ ہائی فائیو یعنی ہاتھ پر تالی بھی ماری۔ ٹرمپ وہ واحد شخصیت نہیں تھے، جن کے لیے لوگ اکھٹے ہوئے تھے بلکہ وہاں موجود عوام میں سے بہت سےچیف آف اسٹاف جان کیلی کو دیکھنے کے منتظر تھے۔ ایک شخص نے زور سے کہا، ’’ ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، جنرل کیلی‘‘۔ ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل اس موقع پر صدر ٹرمپ سے چند قدم پیچھے کھڑے تھے۔

امریکی تاریخ، جو اکثر لوگ سننا نہیں چاہتے

پرل ہاربر پر حملے کو 72 برس بیت گئے

آبے کا پرل ہاربر کا دورہ امریکی جاپانی ’مفاہمت کی علامت‘

ٹرمپ نے جمعے کے روز شمالی کوریا اور اس کے جوہری ارداوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ اگلے گیارہ دن وہ جاپان، جنوبی کوریا، چین، ویتنام اور فلپائن میں گزاریں گے۔ ان کی توجہ اس دوران شمالی کوریائی بحران کے ساتھ ساتھ چین و جاپان سے تجارتی روابط پر مرکوز رہے گی۔

DW.COM