ٹرمپ نے قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل کو برطرف کر دیا | حالات حاضرہ | DW | 31.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ نے قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل کو برطرف کر دیا

امریکی صدر ٹرمپ نے سات مسلم ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے اپنے فیصلے پر تنقید کے باعث قائم مقام ملکی اٹارنی جنرل سیلی ییٹس کو ’دھوکا دہی اور حکم عدولی‘ کے الزامات لگا کر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے منگل اکتیس جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق سیلی ییٹس کو امریکی محکمہء انصاف میں ٹرمپ کے ڈیموکریٹ پیش رو باراک اوباما کے دور صدارت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا اور اس وقت وہ قائم مقام اٹارنی جنرل کی ذمے داریاں انجام دی رہی تھیں۔

سیلی ییٹس نے صدر ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ہفتے تارکین وطن اور سات مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر لگائی جانے والی تین ماہ کی پابندی پر نہ صرف تنقید کی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ ایک صدارتی حکم نامے کی صورت میں لگائی جانے والی اس پابندی کی آئینی حیثیت بھی مشکوک ہے۔

اس کے علاوہ سیلی ییٹس نے اپنے ماتحت اہلکاورں کو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا عدالتی دفاع نہ کریں کیونکہ وہ خود بھی کسی عدالت میں اس پابندی کے خلاف کسی سماعت کی صورت میں اس کا دفاع نہیں کریں گی۔

USA Sally Yates - stellvertretende Generalstaatsanwältin der USA (Getty Images/P. Marovich)

سیلی ییٹس نے امریکی صدر کے حکم نامے پر تنقید کی تھی

اس پر ابھی گیارہ روز قبل بیس جنوری کو اپنی صدارتی ذمے داریاں سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر تیس جنوری کے روز سیلی ییٹس کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ ییٹس کے اس موقف کے جواب میں کہ ملکی محکمہ انصاف کے حکام صدر ٹرمپ کے متنازعہ امیگریشن احکامات کا دفاع نہ کریں، وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس اعلیٰ خاتون اہلکار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیلی ییٹس ’ملکی سرحدوں اور غیرقانونی تارکین وطن کے معاملے میں انتہائی کمزور‘ ثابت ہوئی ہیں۔

ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کی طرف سے Sally Yates پر شدید نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے ’امریکی عوام کے تحفظ کے لیے جاری کردہ صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد نہ کرتے ہوئے محکمہ انصاف سے دھوکا کیا ہے‘ اور حکم عدولی کی مرتکب بھی ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے امریکی ڈیموکریٹس پر بھی زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے نئے اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار جیف سیشنز کی تقرری کی ابھی تک توثیق نہیں ہو سکی۔

اسی دوران وائٹ ہاؤس کے مطابق سیلی ییٹس کی برطرفی کے بعد ان کی جگہ اس عہدے پر فوری طور پر ریاست ورجینیا کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی اسٹیٹ اٹارنی ڈینا بوئنٹے کو نئی قائم مقام اٹارنی جنرل نامزد کر دیا گیا ہے۔ بوئنٹے نے پیر کی رات منعقدہ ایک نجی تقریب میں اپنے نئے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔