1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ نے صدارتی امیدوار بننے کے لیے کافی تائید حاصل کر لی

ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کے لیے پارٹی کنوینشن کے اتنے مندوبین کی حمایت حاصل کر لی ہے کہ وہ ان کی باقاعدہ نامزدگی کے لیے کافی ہو گی۔

یہ بات لاس اینجلس سے جمعرات 26 مئی کو ملنے والی رپورٹوں میں بتائی گئی ہے۔ ان رپورٹوں میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اس نیوز ایجنسی کے اپنے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق آئندہ پارٹی کنوینشن کے ان مندوبین کی طرف سے حمایت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کے لیے لازمی طور پر درکار کم از کم حمایت حاصل ہو گئی ہے، جنہوں نے اب سے پہلے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اب لیکن یہ مندوبین اپنے ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ کو دینے کا حتمی وعدہ کر چکے ہیں۔

اے پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ریپبلکن پارٹی پورے امریکا میں انتخابی پرائمریز کے حتمی اجتماعی نتائج کا باقاعدہ اعلان جولائی میں ہونے والے اپنے اس کنوینشن سے پہلے نہیں کرے گی، جس میں مندوبین عملاﹰ ووٹ دے کر نومبر کے صدارتی الیکشن کے لیے پارٹی امیدوار منتخب کریں گے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکا میں اب تک جو بھی الیکشن پرائمریز ہوئی ہیں، ان کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل سیاستدانوں میں سے کسی بھی رہنما کو حاصل ’مندوبین کی تائید‘ کا کوئی اعلان نہیں کیا جاتا اور امریکی ذرائع ابلاغ اس حوالے سے اپنے اندازوں کے لیے اعداد و شمار خود ہی جمع کرتے ہیں۔

اے پی نے مزید لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ پارٹی کنوینشن میں اپنی نامزدگی کو یقینی بنانے کے لیے درکار کافی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم جولائی کے قومی پارٹی کنوینشن میں عملی طور پر تھوڑے سے مختلف نتائج اس لیے دیکھنے میں آ سکتے ہیں کہ مندوبین کو یہ اختیار بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ پرائمریز کے نتائج سے ہٹ کر بھی اپنی پسند کے کسی سیاستدان کو صدارتی امیدوار بنانے کے حق میں ووٹ دے سکیں۔

Infografik US-Vorwahlen Gewinner Stand 25.05.2016 Englisch

لاس اینجلس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق 69 سالہ ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی امیدوار کے طور پر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے اپنی نامزدگی کے لیے 1237 مندوبین کی حمایت درکار ہو گی اور وہ اب تک 1238 مندوبین کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔

اگر مختلف ریاستوں میں ہونے والی پرائمریز کے نتائج کو سامنے رکھا جائے تو قوی امید ہے کہ ٹرمپ کم از کم 1237 مندوبین کی تائید کا اپنا ہدف زیادہ سے زیادہ سات جون کو کیلیفورنیا اور چار دیگر ریاستوں میں ہونے والی ریپبلکن الیکشن پرائمریز میں حاصل کر لیں گے۔

دوسری طرف ایسوسی ایٹڈ پریس کی ان رپورٹوں کے برعکس امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنے جمع کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ کو اب تک 1229 مندوبین کی حمایت حاصل ہوئی ہے اور انہیں ابھی لازمی طور پر مزید کم از کم آٹھ ووٹ درکار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شروع میں مجموعی طور پر 16 حریف سیاستدانوں کا سامنا رہا، جن کی تعداد ٹرمپ کو ملنے والی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کم ہوتی گئی۔ ان کے آخری حریف امیدوار ریاست اوہائیو کے گورنر ٹَیڈ کروز تھے، جنہوں نے اس ماہ کے اوائل میں ریاست انڈیانا کی پرائمری میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد اس دوڑ سے اپنے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

DW.COM