1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے نئے حکم نامے پر دستخط کر دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے سفر کے حوالے سے پابندیوں پر مشتمل نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس حکم نامے کے ذریعے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیر چھ مارچ کو دستخط کردہ نئے صدارتی حکم نامے میں سے عراق کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔ نئے حکم نامے میں اب چھ مسلم اکثریتی ممالک ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ ان  ممالک کے شہریوں پر اگلے 90 دن کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق 16 مارچ سے ہو گا اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پابندیاں ویزا حاصل کرنے کی نئی درخواستوں پر عائد کی گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے تمام افراد جن کے پاس امریکا کا ویزا پہلے سے موجود ہے، انہیں امریکا کا سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے رپورٹرز کو بتایا کہ عراق کو اس فہرست سے اس لیے خارج کیا گیا ہے کیونکہ عراقی حکومت نے مسافروں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے نئے طریقہ کار کا اطلاق کر دیا ہے اور اس کے علاوہ یہ ملک داعش کے خلاف لڑائی میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

USA Washington - Proteste gegen Trumps Einreisestop am Dulles Airport (DW/M. Shwayder)

ابتدائی پابندیوں کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے

انہوں نے ان پابندیوں سے متاثر ہونے والوں کو پیغام دیا، ’’دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور پارٹنرز کو برائے مہربانی یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ حکم نامہ ان خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جن سے مسلم دہشت گرد فائدہ اٹھا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو عہدہ صدارت سنبھالا تھا۔ اس کے صرف ایک ہفتہ بعد یعنی ستائیس جنوری کو انہوں نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جن میں عراق بھی شامل تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکا کے درجنوں بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اس وقت انتہائی پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جب باقاعدہ ویزا لے کر آنے والے ہزاروں غیر ملکیوں کو امریکا میں داخلے کے اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ تب امریکا کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے بھی شروع ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر سے اس فیصلے پر شدید تنقید بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

Mexiko US-Außenminister Tillerson Benito Juarez international Airport (Reuters/C. Barria)

عراق کو اس فہرست سے اس لیے خارج کیا گیا ہے کیونکہ عراقی حکومت نے مسافروں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے نئے طریقہ کار کا اطلاق کر دیا ہے، ریکس ٹِلرسن

ابتدائی حکم نامے کے ردعمل میں امریکا کی مختلف عدالتوں میں قریب دو درجن مقدمات درج کرائے گئے تھے۔ تین فروی کو ایک امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایسے افراد کو امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی تھی، جو ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف کے اندازوں کے مطابق ابتدائی پابندی کے سبب قریب 60 ہزار افراد کو جاری کردہ ویزے معطل کر دیے گئے تھے تاہم پیر کے روز امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایسے تمام ویزا رکھنے والے افراد اب امریکا کا سفر کر سکتے ہیں۔