ٹرمپ نے خود کو ’جینیئس‘ قرار دے دیا | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ نے خود کو ’جینیئس‘ قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ذہنی موزونیت اور صحت کا دفاع کیا ہے اور خود کو غیر معمولی طور پر ذہین بھی قرار دیا ہے۔ ان کا یہ ردعمل ان کے بارے میں ایک کتاب کی اشاعت کے بعد سامنے آیا ہے۔

اپنی ٹوئیٹس کے ایک سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ اپنی ذہنی صلاحیتوں اور کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ذہانت کے حوالے سے وہ ’’واقعی اسمارٹ‘‘ ہیں اور ایک ’’انتہائی مستحکم جینیئس‘‘ ہیں۔

ٹرمپ کا یہ نقطہ نظر دراصل جمعہ پانچ جنوری کو فروخت کے لیے پیش کی جانے والی اُس کتاب کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بطور صدر اپنی ذمہ داریوں کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں اور جن کی استعداد یا قابلیت پر ان کی حکومت میں شامل عہدیدار اور نائبین بھی سوال اٹھاتے ہیں۔

ٹرمپ نے ’’فائر اینڈ فیوری‘‘ نامی اس کتاب کے مصنف مشائیل وولف کے بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں اسے تصوراتی کام سمجھتا ہوں اور میرے خیال میں یہ شرم کی بات ہے کہ اس ملک میں ذمہ داری عائد کیے جانے کے حوالے سے قوانین بہت ہی کمزور ہیں۔ اگر یہ قوانین مضبوط ہوتے تو وہ چیزیں ہم تک نہ پہنچتیں جنہیں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ محض آپ کے دماغ کی پیداوار ہیں۔‘‘

اس موقع پر امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے امریکا کے بہترین کالجوں سے تعلیم حاصل کی اور کاروباری طور پر انتہائی کامیاب رہے اور اربوں ڈالرز بنائے۔ ان کا استدلال تھا کہ یہ بات بھی ان کی صلاحتیوں کا ہی اظہار ہے کہ انہوں نے پہلی بار عہدہ صدارت کے لیے انتخاب لڑا اور اس میں کامیاب ہو گئے۔

USA Washington Buch Fire and Fury: Inside the Trump White House (Reuters/C. Barria)

فائر اینڈ فیوری نامی کتاب میں امریکی صدر کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بطور صدر اپنی ذمہ داریوں کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں۔

حالیہ چند ماہ کے دوران امریکی میڈیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی عہدہ صدارت کے لیے ان کی ذہنی استعداد کے بارے میں بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس میں موجود ڈیموکریٹک ارکان بھی اس پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان سارہ سینڈرز نے رواں ہفتے کے دوران اس طرح کی بحث کو ’’باعث شرم اور مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا تھا۔

DW.COM