1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ نے تجارتی معاہدہ ’ٹی پی پی‘ ختم کر دیا

امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے امریکا کو آزاد تجارتی معاہدے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) سے نکال لیا ہے۔ وہ کینیڈا کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر بھی دوبارہ مذاکرات چاہتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس منسوخی کو امریکی ورکرز کے لیے ایک بہترین چیز قرار دیا ہے۔  اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ مسلسل یہ کہتے آئے تھے کہ وہ بارہ ملکوں کے اس تجارتی معاہدے کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ملازمتوں کے حوالے سے یہ معاہدہ ایک ’تباہ کن‘ معاہدہ ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما اپنے اقتدار کے آخر تک ٹی پی پی معاہدے کے شدید حامی رہے ہیں۔ اوباما اس معاہدے کے تحت امریکا اور ایشیائی ممالک کے مابین تجارتی رابطوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے معاہدوں کے تحت ملازمتوں کے مواقع بیرون ملک ہی پیدا ہوتے ہیں۔

’تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہو گا‘، شی کا ٹرمپ کو پیغام

صدر ٹرمپ کی طرف سے ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے اس معاہدے سے نکلنا ان منصوبوں کا حصہ ہے، جو وہ اپنے اقتدار کے پہلے ایک سو دنوں میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے ’نیفٹا‘ پر بھی از سر نو مذاکرات چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کے ایک اعلیٰ مشیر اسی ہفتے کینیڈا کے وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

 ٹرمپ اس حوالے سے کہہ چکے ہیں، ’’ٹی پی پی جیسے معاہدوں کی بجائے ہم منصفانہ مذاکرات کریں گے، ایسے دو طرفہ تجارتی معاہدے کریں گے، جن سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی افزائش کو امریکا میں پھیلنے کا موقع ملے گا۔‘‘

DW.COM