1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ فاؤنڈيشن تنازعے کی زد ميں

امريکی صدارتی انتخابات ميں فاتح قرار پانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ صدارت کا منصب سنبھالنے سے قبل اُس امدادی تنظيم کو بند کر ديں گے، جس کے بارے ميں پچھلے دنوں چند متنازعہ رپورٹيں سامنے آئی تھيں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول انہوں نے اپنے وکلاء کو ’ڈونلڈ جے ٹرمپ فاؤنڈيشن‘ کی بندش کے سلسلے ميں تمام مراحل مکمل کر لينے کی ہدايت دے دی ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز يہ بيان ديا اور يہ بھی بتايا کہ ان کی يہ فاؤنڈيشن گزشتہ کئی عرصے سے بغير اخراجات کام کر رہی تھی اور اس کے ذريعے حاصل ہونے والے رقوم امداد کے ليے استعمال ہوتی رہی ہيں۔

اس کے برعکس نيو يارک ميں اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے ايسی چند حاليہ رپورٹوں کی تفتيش جاری ہے جن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی فاؤنڈيشن کی کچھ رقم صدارتی مہم ميں استعمال کی گئی تھی۔ دفتر کی ايک ترجمان نے کہا ہے کہ جب تک اس سلسلے ميں تحقيقات مکمل نہيں ہو جاتيں، ٹرمپ فاؤنڈيشن کی بندش ممکن نہيں۔

نو منتخب صدر نے ہفتے کو جاری کردہ اپنے بيان ميں کہا، ’’اس فاؤنڈيشن نے گزشتہ کئی برسوں سے اچھا کام کرتے ہوئے ان گنت مستحق گروپوں کی کئی ملين ڈالروں سے مدد کی ہے۔ مستفيد ہونے والوں کی فہرست ميں سابقہ فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور بچے شامل ہيں۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزيد کہا کہ بطور ملکی صدر وہ امريکا اور دنيا کو درپيش مسائل کا حل تلاش کرنے پر وقت صرف کريں گے۔ ايسے ميں وہ نہيں چاہتے کہ کوئی اچھا کام کسی تنازعے کی نذر ہو جائے۔ نو منتخب صدر کا کہنا تھا کہ وہ مدد سے متعلق اپنی سرگرمياں کسی اور انداز ميں جاری رکھيں گے۔

دوسری جانب ڈيموکريٹک نيشنل کميٹی نے  اس سلسلے ميں ٹرمپ پر تنقيد کی ہے۔ کميٹی کے مطابق وہ اپنی محدود امدادی سرگرميوں اور متنازعہ چيزوں پر پردہ ڈال رہے ہيں۔ ڈيمو کريٹک پارٹی کا يہ بھی کہنا ہے فاونڈيشن کی بندش کافی نہيں، ٹرمپ کو اپنے اثاثے ايک بلائنڈ ٹرسٹ ميں جمع کر دينے چاہييں۔

سابقہ امريکی صدور اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ ميں جمع کراتے آئے ہيں۔ ناقدين کا کہنا ہے کہ ٹرمپ آرگنائزيشن، جس کا ہوٹلوں، گولف کلبز اور عالمی سطح پر رہائشی پراجيکٹس کا نيٹ ورک ہے،  ٹرمپ کو خارجہ پاليسی، ٹيکس کے شعبے ميں اصلاحات اور ديگر کئی امور ميں ايک ايسی صورتحال سے دوچار کر دے گی جہاں ان کے ذاتی مفادات اور اہم فيصلوں کے بيچ ميں ٹکراؤ ہو۔