1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ صدارت کے پہلے چند گھنٹوں میں کیا کچھ کرنے والے ہیں؟

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا پہلا دن بہت ہی مصروف ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ صدر بننے کے بعد پہلے چند گھنٹوں میں ہی متعدد اہم اقدامات کرنے والے ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے ایک جائزے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور پھر صدارتی انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد جن عزائم کا اظہار کیا ہے، اُن کی روشنی میں دیکھا جائے تو اُن کے دورِ صدارت کا پہلا دن انتہائی مصروف گزرے گا۔

اس جائزے کے مطابق توقع یہ کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ اپنے پیش رو باراک اوباما کے آٹھ سالہ دور میں کیے گئے متعدد اقدامات کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیں گے۔ اوباما کے کئی ایک اقدامات کو وہ بیک جنبشِ قلم منسوخ کر سکتے ہیں جبکہ دیگر کو منسوخ کرنے میں کئی مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

ستّر سالہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورِ صدارت کے پہلے چند گھنٹوں کے اندر اندر درجنوں اقدامات کرنے کا خاکہ تیار کر چکے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر صحت کے شعبے میں ’اوباما کیئر‘ کہلانے والی اصلاحات کی منسوخی کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تارکینِ وطن کی اُن کے آبائی ملکوں کو جبری واپسی، متعدد تجارتی معاہدوں کی منسوخی اور میکسیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا اعلان شامل ہو سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے روز کی مصروفیات کے حوالے سے ٹرمپ کے عزائم جو بھی ہوں، اُنہیں عملی جامہ پہنانے کی گنجائش بہرحال محدود ہو گی۔ امیگریشن اٹارنی ڈیوڈ لیوپولڈ نے اے ایف پی کو بتایا:’’یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ آئیں اور پہلے ہی روز ہر وہ اقدام کر ڈالیں، جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ جمہوریت میں کوئی چیف ایگزیکٹیو آفیسر نہیں ہوتا۔‘‘

اس کے باوجود توقع یہ کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ ’اوباما کیئر‘ کو ختم کرنے اور اُس کی جگہ متبادل اصلاحات لانے کے احکامات پر فوری طور پر دستخط کر دیں گے۔ اس کے فوراً بعد وہ کانگریس پر ان اصلاحات کا متبادل تیار کرنے  کے لیے زور دیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ ابھی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے ان اصلاحات کے متبادل کے طور پر کوئی تجویز سامنے نہیں لائی گئی۔

Grenzzaun Mexiko USA (picture-alliance/AP Photo/E. Gay)

ٹرمپ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے میکسیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے احکامات دے سکتے ہیں

اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اُن سزا یافتہ مجرموں کو ڈی پورٹ کرنا چاہیں گے، جو غیر قانونی طور پر امریکا میں قیام پذیر ہیں  اور جن کی تعداد اُن کے بقول دو ملین سے بھی زیادہ ہے۔ اگست میں ایریزونا میں ٹرمپ نے کہا تھا:’’صدر کے طور پر پہلے روز، پہلے گھنٹے ہی میں، سمجھ لیں کہ یہ لوگ تو گئے۔‘‘ تاہم امیگریشن اٹارنی ڈیوڈ لیوپولڈ کے مطابق صدر کے پاس کسی شخص کو جبراً وطن واپس بھیجنے کے اختیارات ہی نہیں ہیں۔

ٹرمپ اپنی صدارت کے پہلے روز غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے میکسیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا ڈول ڈال سکتے ہیں اور شامی مہاجرین کے لیے متعارف کروائے گئے پروگرام کی معطلی کے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بات بھی راز نہیں رہنے دی کہ وہ نہ صرف امریکی انڈسٹری میں ماحولیاتی تحفظ کی امریکی ایجنسی EPA کی مداخلت کو ختم کر دیں گے بلکہ اوباما کے اُس ’کلین پاور پلان‘ کو بھی منسوخ کر دیں گے، جس میں بجلی گھروں سے کاربن گیسوں کے اخراج کو کم یا ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔