ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کڑوی گولی کی طرح ہو گی، عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کڑوی گولی کی طرح ہو گی، عمران خان

پاکستانی اپوزیشن کے سیاستدان عمران خان کے مطابق وزیراعظم بننے کی صورت میں ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کڑوی گولی ہو گی۔ عمران خان اس وقت اپوزیشن کی ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے سربراہ ہیں۔

ایک پریس بریفنگ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن جیت کر وہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو یقینی طور پر وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ تاہم انہوں نے اس ممکنہ ملاقات کو ایک کڑوی گولی بھی قرار دیا۔

عمران خان نے خاموشی توڑ دی

کپتان کی شادی کی خبر پر سوشل میڈیا متحرک

عمران خان کی اپنی روحانی پیرنی سے شادی؟ خبر ہے گرم

’میرا نام خان ہے اور میں دہشت گرد نہیں‘

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماضی کے لیجنڈری کرکٹر اور موجودہ سیاستدان عمران خان نے واضح کیا کہ وہ ستمبر گیارہ کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے شروع دن سے مخالف رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے بظاہر پاکستان کا کوئی سروکار نہیں تھا۔

عمران خان کے مطابق انہوں نے اس جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کی حمایت کا ضرور کہا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی فوج کو بھی عملاً اپنے قبائلی علاقے کی سرزمین کو جنگی میدان بناتے ہوئے اپنی ہی عوام کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقے کی سرحدی پٹی افغانستان کے ساتھ جڑی ہے اور جہاں طالبان جنگجو افغان اور غیر ملکی افواج کے خلاف مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

USA Trump erhöht den Druck auf den Iran (picture alliance/dpa/AP/E. Vucci)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوسے

عمران خان نے نئے سال کے اوائل میں امریکی صدر کے ٹویٹ پر کہا کہ اُس ٹویٹ پر ابھی تک پاکستانی قوم رنجیدہ اور غصے کا اظہار کرتی ہے۔ اس ٹویٹ میں ٹرمپ نے پاکستانی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ پندرہ برسوں کے دوران  تینتیس ارب ڈالر کی امداد لینے کے بعد بھی جھوٹ اور دھوکہ دہی سے گریز نہیں کر رہی ہے۔

عمران خان کے مطابق ٹرمپ نے امریکی فوج کی ناکامیوں کے تناظر میں پاکستان پر یہ الزام عائد کر کے محض اِسے قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کے الزام سے پاکستان کی بے توقیری ہوئی ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کے ہزاروں فوجی مارے گئے ہیں اور اسی طرح ہزاروں عام شہریوں کی دہشت گرادانہ حملوں میں ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ خان کے مطابق پاکستان کو محض ایک تابع فرمان کی حیثیت دینے کی امریکی سوچ انصاف پر مبنی نہیں قرار دی جا سکتی۔

ویڈیو دیکھیے 00:34

ڈی ڈبلیو کے ساتھ عمران خان کا خصوصی انٹرویو

DW.COM

Audios and videos on the topic