1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ٹرمپ سفری پابندی، معیاد پوری ہونے پر نیا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عائد پابندیوں کے ہدایت نامے کی معیاد پوری ہونے پر ایک نیا حکم نامہ جاری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نئے حکم نامے میں سفری پابندیوں کے شکار ممالک کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ برائے ہوم لینڈ سکیورٹی نے امریکی صدر کو تجویز دی ہے کہ ایسے ممالک کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے، جو امریکا کی جانب سفر کرنے والے اپنے کسی شہری کی معلومات امریکا کے ساتھ بانٹے سے گریز کریں یا پیش و پس سے کام لیں۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ سلامتی کے موثر اقدامات نہ اٹھانے والے ممالک کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ہزاروں امریکی حاجی، ٹرمپ کی پابندیوں پر تشویش میں مبتلا

’ویزا لاٹری جیت کر بھی امریکا نہیں پہنچ سکتے‘

امریکا کی طرف سے تہران کے خلاف نئی پابندیاں

یہ بات اہم ہے کہ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا کی جانب سفر پابندیوں کا حکم جاری کیا تھا، تاہم انہیں امریکا کی متعدد ریاستوں کی عدالتوں نے کالعدم قرار دے دیا۔ لیکن بعد میں امریکی سپریم کورٹ نے نوے روز کے لیے جاری کردہ اس حکم پر جزوی طور پر عمل درآمد کی اجازت دی تھی، جس کی مدت اب مکمل ہونے کو ہے۔

فی الحال یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس نئے حکم نامے میں مزید کتنے یا کون کون سے ممالک کو شامل کیا جا رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بابت جلد ہی اعلان کرنے والے ہیں۔

حکام کے مطابق ایسے ممالک جو تارکین وطن، یا سیاحت کے ویزے پر امریکا جانے والے کسی شخص کی بابت تفصیلی معلومات فراہم نہیں کریں گے، جن سے یہ طے ہو کہ وہ امریکی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، پابندی کا شکار کیے جائے گے۔

واضح رہے کہ جون میں جزوی طور پر نافذالعمل ہونے والے پابندیوں کے اس حکم نامے کے تحت ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم ایسے افراد جن کے انتہائی قریبی رشتہ دار امریکی شہریت یا قانونی طور پر رہائشی اجازت نامے کے حامل ہیں، اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

DW.COM