ٹرمپ اپنا فیصلہ منسوخ کریں، عرب وزرائے خارجہ | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ اپنا فیصلہ منسوخ کریں، عرب وزرائے خارجہ

عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے اپنے فیصلے کو واپس لیں۔ یہ مطالبہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں سامنے آیا۔

عرب لیگ کے رکن ممالک کی ایک ایمرجنسی میٹنگ میں عالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرے۔ مصری دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے اس اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں عرب لیگ میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ امریکا نے اپنے اس فیصلے کی بدولت خود کو اسرائیل فلسطین امن عمل کی ’’حمایت اور اس کے لیے کوششوں سے الگ کر لیا ہے‘‘۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا یہ ایمرجنسی اجلاس اس تنظیم کے قاہرہ میں واقع ہیڈکوارٹرز میں ہوا جس کا مقصد امریکی فیصلے کے بعد ایک متفقہ ردعمل متعین کرنا تھا۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر دنیا بھر میں اور خاص طور پر مسلم دنیا میں تنقید کی جا رہی ہے۔

Ägypten Minister der Arabischen Liga tagen in Kairo | Generalsekretär Ahmed Aboul Gheit

عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیث

عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیث نے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران کہا کہ عرب لیگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کو مسترد کرتی ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے۔

عرب وزراء خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے کہ وہ اس امریکی فیصلے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے مصری دار الحکومت قاہرہ میں اتوار دس دسمبر کی صبح میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلے کی مذمت کی قرارداد جلد جمع کرائی جائے گی۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی حامی تنظیم الفتح نے عوام کو احتجاج جاری رکھنے کا کہا ہے۔ انہوں نے رواں ماہ کے آخر میں علاقے کا دورہ کرنے والے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔

DW.COM