1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ اور کلنٹن کے درمیان دوسرا مباحثہ آج ہو گا

امریکی صدارتی الیکشن میں ایک ماہ رہ گیا ہے۔ آج ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسرا اور آخری مباحثہ سینٹ لوئس میں ہو گا۔ دونوں حریف امیدوار اپنی اپنی انتخابی مہم میں زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ آٹھ نومبر کو ہو گی۔ ری پبلکن جماعت کی طرف سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی حریف ہیلری کلنٹن کے سامنے دوسرے مباحثے میں پورے حوصلے سے شریک ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے منظر عام پر لائی جانے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے ٹرمپ کو دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ہیلری کلنٹن کے شوہر اور سابق صدر بل کلنٹن کے دورِ صدارت میں مونیکا لیونسکی اسکینڈل کو موضوع بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے واقعات سے شدید متاثر ہے اور ٹرمپ کو سنبھلنے کے لیے ایک زوردار پرفارمنس کی ضرورت ہے۔ آج کی ڈیبیٹ میں نصف سوال ناظرین کی جانب سے پوچھے جائیں گے۔ اس تناظر میں ٹرمپ کی مشکات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تمام تر مسائل کے باوجود ٹرمپ نے الیکشن سے دستبردار ہونے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو ایک اجتماع میں الیکشن لڑنے کا سو فیصد یقین دلایا۔

USA Wahlkampf TV Duell (Reuters/L. Jackson)

امریکی صدارتی الیکشن کے امیدوار: ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اُس ویڈیو کے منظر عام آنے سے شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں وہ خواتین کی حوالے سے قدرے نامناسب گفتگو کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے مواد پر ٹرمپ معذرت کر چکے ہیں۔ اُن کی اہلیہ میلانیا نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے ان کے الفاظ کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی سینیئر رہنماؤں نے اِس ویڈیو کے حوالے سے اپنی ناراضی کا برملا اظہار کیا ہے۔ بعض ری پبلکنز تو کھل کر ہلیری کلنٹن کو ووٹ دینے کا بیان دے چکے ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے پیر 10 اکتوبر سے بھرپور انتخابی ریلیوں میں اُن کی شرکت کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ اس وقت ایسے بیانات بھی تواتر کے ساتھ سامنے آنے لگے ہیں کہ ٹرمپ انتخابات سے دستبردار ہو جائیں۔ اس تناظر میں ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی اور حامی رُوڈی گُولیانی نے ان بیانات کو کلنٹن کی انتخابی مہم چلانے والی کمیٹی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ ری پبلکن نیشنل کمیٹی نے بھی اپنا انتخابات سے متعلق وکٹری پروگرام کا نصف حصہ معطل کر دیا ہے۔

اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں ہیلری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر پانچ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں اس میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ این بی سی چینل کی 2005ء کی ویڈیو کے عام ہونے پر کئی امریکی ششدر ہیں۔ ہیلری کلنٹن اگر صدر منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ امریکا کی پہلی خاتون صدر ہوں گی۔