1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ انتخابات تو جیت گئے، مگر شکست جان نہیں چھوڑ رہی

ٹرمپ کوامریکی صدر بنے دو ماہ ہی ہوئے ہیں لیکن ابھی سے انہیں کئی محاذوں پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔ ’اوباما کیئر‘ کو ختم کرنے کا ان کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے اور یوں وہ اپنا ایک اور انتخابی وعدہ پورا نہیں کر سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعے کے روز ایک اہم ترین قانونی جنگ میں اس وقت شکست ہوئی، جب ان کی اپنی ہی ریپبلکن جماعت کے اراکین نے نظامِ صحت کے ’اوباما کیئر‘ نامی پروگرام کی جگہ نیا نظام لانے میں ان کا ساتھ نہ دیا۔ ایوانِ نمائندگان میں رائے شماری سے کچھ ہی پہلے ٹرمپ نے اپنا مجوزہ مسودہٴٴ قانون واپس لے لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے بھی بہت سے ارکان اس مسودے کے خلاف تھے۔

یہ ٹرمپ کی پہلی شکست نہیں ہے۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے صرف ایک ہفتے بعد ہی ایک خصوصی حکام نامہ جاری کرتے ہوئے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ سب کچھ اچانک تھا، جس کے بعد سفری افراتفری پھیل گئی، لوگ الجھن اور پریشانیوں کا شکار ہوئے اور دنیا بھر نے اس اقدام پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ لیکن ٹرمپ کو اُس وقت شدید شرمندگی اٹھانا پڑی جب واشنگٹن کی ایک عدالت نے اِس حکم نامے کو منسوخ کر دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ترامیم کے ساتھ ایک نیا حکم نامہ تیار کیا، جس میں سات کی بجائے چھ ممالک کے نام شامل تھے۔ تاہم ریاست ہوائی کے ایک جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خصوصی فرمان پر بھی عمل درآمد روک دیا۔

اسی طرح امریکا کی انتخابی مہم پر اثر انداز ہونے کی مبینہ روسی کوششوں کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے بھی زیادہ تفصیل میں جائے بغیر اس تحقیقاتی عمل کی تصدیق کی تھی۔ اس بارے میں ٹرمپ کی ٹیم سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اِس کے علاوہ اِس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کانگریس کی سطح پر چار مختلف تحقیقات بھی جاری ہیں۔

سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ گزشتہ مہینے ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن نے یہ کہتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا کہ روسی سفیر کے ساتھ اپنے روابط کے حوالے سے اُنہوں نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ اِس کے علاوہ اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے بھی روسی سفیر سرگئی کیزلیکے سے اپنی ملاقات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد خود کو اِن تحقیات سے الگ کر لیا تھا۔

ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ سیاست کے کسی تجربے کے بغیر ہی وائٹ ہاؤس تک پہنچے ہیں۔ تاہم ’اوباما کیئر‘ کو تبدیل کرنے کے اپنے منصوبے میں ناکامی کے بعد اب انہوں نے اپنی توجہ ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی جانب مبذول کر دی ہے، جو ریپبلکن پارٹی کا ایک دیرینہ ہدف ہے۔