1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’ٹرمپ امریکی صدر‘‘ جرمن سیاستدانوں کا رد عمل

امریکا میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی نے جرمن حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس نتیجے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جرمن وزیر دفاع ارزولا فان ڈیئر لائن نے ملکی ٹیلی وژن چینل ’اے آر ڈی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی حیرت انگیز ہے۔ ان کے بقول ٹرمپ کا امریکی صدر بننا ایک بڑے جھٹکے سے کم نہیں۔ فان ڈیئر لائن کے مطابق، ’’میرے خیال میں عوام نے ووٹ ٹرمپ کو نہیں دیے بلکہ عوام نے واشنگٹن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اب یورپی ممالک کو یہ دیکھنا ہے کہ ٹرمپ اس اتحاد کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو) کے خارجہ امور کے سیاستدان نوربرٹ رؤٹگن نے امریکا میں ہونے والی اس پیش رفت کو یورپ کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ نتیجہ امریکی معاشرے میں شدید قسم کی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ صورتحال ہمارے لیے خطرے کی ایک علامت ہے‘‘۔ نوربرٹ رؤٹگن نے کہا کہ ٹرمپ کو ویسے ہی قبول کرنا پڑے گا، جیسا انہوں نے خود کو پیش کیا ہے۔

ماحول دوست گرین پارٹی کے رہنما چیم اوئزدے میر نے کہا کہ مغربی ممالک کی روایت رہی ہے کہ وہ ہمیشہ لبرل قوتوں کے ساتھ رہے ہیں اور آج امریکا کے صدارتی انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب تک کی یہ روایت ٹوٹ گئی ہے۔ سوشل ڈیموکر یٹک سیاستدان نیلز آنن کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک روایتی امیداور سے مختلف انداز اختیار کریں گے۔

بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے کے بیرنڈ ریکسنگر، پیشنگوائی کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے ہر طرح کے وعدے کیے ہیں اور یقین دہانیاں کرائی ہیں اور وہ صدر بننے کے بعد عوام کو کچھ بھی نہیں دے سکیں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ طرز کے معاشرے کی جانب لے جائیں گے۔