1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ٹرمپ اسلام سے بے بہرہ ہیں‘

عراقی جنگ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد امریکی فوجی افسر ہمایوں خان کی والدہ غزالہ خان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام بطور مذہب کیا ہے؟ ادھر انتہا پسند گروہ داعش نے کہا ہے کہ ہمایوں خان ’مرتد‘ تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ہمایوں خان کی والدہ غزالہ خان کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اسلام سے بے بہرہ ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے اپنے ایک آرٹیکل میں کہا کہ ٹرمپ نہیں جانتے کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں اور قربانی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

DW.COM

سن دو ہزار چار میں عراق میں ایک حملے میں مارے جانے والے امریکی فوج کے کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن میں حال ہی میں ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی تارکین وطن اور مسلمانوں کے بارے میں پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت ان کی اہلیہ غزالہ خان بھی اسٹیج پر ان کے ساتھ تھیں، لیکن وہ اس دوران خاموش رہی تھیں۔

گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں خضر خان کی تقریر پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ اسٹیج پر موجود تھیں، لیکن وہ خاموش رہیں، شاید انہیں لب کشائی کی اجازت نہیں ہو گی کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر غزالہ خان نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسلام کے بارے میں بات تو کرتے ہیں لیکن انہیں اس مذہب کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔

غزالہ خان نے مزید لکھا کہ ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، لیکن درحقیقت انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ قربانی کیا ہوتی ہے؟

غزالہ خان نے لکھا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک کنوینشن میں اس لیے خاموش تھیں کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی موت پر ابھی تک رنجیدہ ہیں۔

Khizr Khan Rede Ghazala Khan USA

ہمایوں خان کی والدہ غزالہ خان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام بطور مذہب کیا ہے؟

دوسری طرف دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے ہمایوں خان کو ’مرتد‘ قرار دیا ہے۔ اس جہادی گروہ کے آن لائن میگزین ’دابق‘ نے ہمایوں خان کی قبر کے کتبے کی ایک تصویر کے ساتھ لکھا، ’’ایک مرتد کے طور پر مرنے سے خبردار رہا جائے۔‘‘

ایک نومسلم امریکی جہادی نے اس تصویر کے ساتھ شائع کردہ اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کو مغربی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کرنا چاہیے۔ اس نامعلوم شدت پسند نے مزید لکھا کہ مغربی دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر انتظام علاقوں کی طرف ہجرت اختیار کر لینا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو انہیں اپنے اپنے معاشروں میں اپنے طور پر حملے کرنا چاہییں۔