1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سال 2008 کے لئے اپنی سالانہ رپورٹ شائع کر دی ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں اربوں کی رقم رشوت کے طور پر دی جاتی ہے۔ اس سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں بدعنوانی کے لحاظ سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

default

دنیا کے بہت سے ملکوں میں کرپشن اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال کرپشن کی وجہ سے اربون کا نقصان ہوتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نامی تنظیم دنیا بھر میں کرپشن کا جائزہ لے کر ایک فہرست مرتب کرتی ہے۔

تنظیم کی چئیر پرسن لابیلا نے کہا کہ ’’ کم آمدنی والے ملکوں میں کرپشن زندگی اور موت کا سوال بن سکتی ہے۔ جب اقتصادی عمل میں سے انفرادی ضروریات کے لئے رقم نکال لی جاتی ہے تو صحت اور علاج، پانی کی فراہمی و نکاسی وغیرہ کے انتظامات کے لئے پیسے کی کمی پڑ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ بیمار پڑ جاتے ہیں، بہت سے مر بھی جاتے ہیں اور اقتصادی ترقی بھی نہیں ہو پاتی۔ جب تعمیراتی شعبے میں غبن کیا جاتا ہے اور خراب معیار کا سامان استعمال ہوتا ہے تو زلزلوں کے دوران عمارات اور پل جلد ٹوٹ جاتے ہیں اور شدید تباہی آتی ہے۔‘‘

Symbolbild Korruption Euro Scheine und Hände

دنیا بھر میں ہر سال اربوں روپے بدعنوانی کی نذر ہوتے ہیں

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کرپشن کے لحاظ سے دنیا کے ایک سو اسی ممالک کا جائزہ لیا ہے۔ کم ترین کرپشن والے ممالک میں سب سے اوپر ڈنمارک، سوئیڈن اور نیوزی لینڈ ہیں جبکہ سب سے زیادہ کرپش والے ممالک میں صومالیہ، عراق اور برما یا میانمار نمایاں ہیں۔ کرپشن کے لحاظ سےجرمنی کی پو زیشن بہتر ہو کر دو درجے اوپرتو آ ئی ہے مگر صورتحال پھر بھی غیر تسلی بخش ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جرمن شاخ کی چئیر پرسن شینک نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے سب کو مل جل کر کام کرنا ہو گا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ برائے 2008 میں کرپشن سے پاک ممالک کی فہرست میں بھارت بہترویں نمبر سے نیچے پچاسی ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ پاکستان ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں ایک سو چونتیسویں نمبر پر ہے۔