1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ جاری

بین الاقوامی سطح پر بد عنوانی کے خلاف کوشاں ادارے ٹرانسپيرنسی انٹرنيشنل نے عالمی سطح پر کرپشن سے متعلق 2009ء کے لئے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

default

اس رپورٹ میں مختلف ریاستوں کے سرکاری اور عوامی شعبوں میں پائی جانے والی بدعنوانی کے لحاظ سے کُل 180 ملکوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی اس سالانہ دستاویز میں مختلف ملکوں میں بدعنوانی کی شدت کا اندازہ لگانے کے لئے CPI نامی جو انڈکس استعمال کیا گیا ہے، اس کے مطابق اس وقت دنیا کا سب سے بدعنوان ترین ملک صومالیہ ہے۔ صومالیہ کے بعد افغانستان کا نام آتا ہے جو اس فہرست میں 179 ویں نمبر پر ہے۔ اس درجہ بندی میں پاکستان 139ویں نمبر پر ہے۔

Infografik Korruptionsindex 2009 (deutsch) NEU!

دنیا میں سب سے کم بدعنوانی نیوزی لینڈ مین دیکھی گئی

اسی فہرست میں دنیا کے سب سے کم بدعنوان ملکوں کی درجہ بندی میں نیوزی لینڈ پہلے، ڈنمارک دوسرے اور سنگاپور اور سویڈن تیسرے نمبر پر ہیں۔ پانچویں نمبر پر سوئٹزرلینڈ جبکہ فن لینڈ اور ہالینڈ چھٹے نمبر پر ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے کم بدعنوان ریاستوں کی اسی لسٹ میں آسٹریلیا، کینیڈا اور آئس لینڈ مشترکہ طور پر آٹھویں، ناروے گیارہویں، ہانگ کانگ اور لکسمبرگ بارہویں جبکہ جرمنی چودہویں نمبر پر آتا ہے۔

جرمنی میں عوامی شعبے میں بدعنوانی کےموضوع پر ٹرانسپيرنسی انٹرنيشنل کی جرمن شاخ کی خاتون سربراہ سلویا شینک نے جرمن ریڈیو DLF کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمن حکومت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک ملک میں کرپشن پر مکمل طور پر قابو نہیں پا سکی ہے۔ سلویا شینک کہتی ہیں: "جرمنی اس فہرست میں گزشتہ برس بھی چودہویں نمبر پر تھا۔ اس سال بھی اس فہرست میں اس کا نمبر تبدیل نہیں ہوا۔ مطلب یہ کہ جرمنی میں عوامی زندگی کے کئی شعبے ایسے ہیں، جہاں صورت حال میں واضح طور پر بہتری کی ضرورت ہے۔"

منگل کی دوپہر جاری کردہ اس سالانہ رپورٹ کے بارے میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی خاتون سربراہ ہُو گیٹ لابَیل کہتی ہیں کہ موجودہ دور میں مختلف حکومتوں کی جانب سے عوامی منصوبوں کے لئے مختص کردہ بہت زیادہ مالی وسائل کا پوری طرح درست استعمال نہ ہونا اور کرپشن کی وجہ سے عام شہریوں کے ساتھ سماجی اور قانونی ناانصافی وہ بڑے مسائل ہیں جو فوری طور پر حل کئے جانا چاہیئں۔ ہُوگیٹ لابَیل کے بقول اس طرح کے انصاف کویقینی بنانے کے لئے مئوثر احتسابی عمل اور بہتر حکومتی کارکردگی ناگزیر ہیں۔

رپورٹ : نازیہ جبیں

ادارت : مقبول ملک