1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر اسمگلنگ ،حقائق سپریم کورٹ میں

افغانستان میں موجود آئی سیف دستوں کو پاکستان کے راستے رسد کی فراہمی کے دوران اربوں روپے کی مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث پاکستانی افسران کے ناموں کی فہرست ملکی سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔

default

فیڈرل بیورو آف ریونیوکے وکیل راجہ ارشاد کے مطابق ان تمام متعلقہ افسران کے ناموں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے جو گزشتہ چار سالوں کے دوران پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے منسلک رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نومبر میں ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی ان اطلاعات پر، جن کے مطابق پاکستان کے راستے افغانستان بھجوائے جانے والے سامان کے کنٹینرزکو سرحد پار کرنے سے پہلے ہی کھول کر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی دیے بغیر یہ سامان پاکستان میں ہی فروخت کر دیا جاتا ہے، از خود نوٹس لیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی ٹیکس محتسب نے سپریم کورٹ ہی کے حکم پر 80 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی تیارکی، جو بدھ کے روز عدالت میں پیش کی گئی۔

ڈوئچے ویلے کے پاس موجود اس رپورٹ کی ایک کاپی کے مطابق آئی سیف کنٹینرز کی آڑ میں اسمگلنگ کے دھندے میں ملکی معیشت کو 37 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں شامل سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اعداد و شمار میں بھی بڑے پیمانے پر گھپلوں کی نشاندہی کی گئی، جن کے سبب گزشتہ چار سالوں میں آٹھ ہزار کنٹینرز میں لایا جانے والا سامان کبھی افغان سرحد پار ہی نہ کر سکا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرام چوہدری کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد اس میں ملوث اہلکاروں کو سزائیں دینا لازم ہوچکا ہے۔

Pakistan Islamabad Gebäude vom Vefassungsgericht

ریکوری کے ساتھ ساتھ عدالت جس چیز پر زور دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں ملنی چاہئیں تا کہ اس جرم کی ترویج نہ ہو۔’’ میرے خیال میں جب تک پاکستان میں اصل افراد ہیں جو اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں، جب تک ان کو سزائیں نہیں دی جائیں گی تب تک پاکستان کے آئین و قانون کی عملداری کا راستہ رکے گا۔‘‘

بعض ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ طویل عرصے سے جاری اس کرپشن پر افغان اور آئی سیف حکام کیوں خاموش رہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر بلال صوفی کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ ساتھ افغان حکام کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کی نشاندہی کرتے۔ بلال صوفی کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے قانون سازی انتہائی اہمیت اختیارکر گئی ہے۔ انہوں نے کہا:’’میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے کیونکہ افغانستان بھی تعمیر و ترقی کے دور سے گزر رہا ہے۔ وہاں بھی تجارتی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔ پاکستان بطور ٹرانزٹ اسٹیٹ افغانستان کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اسے راہداری کا حق دیتا ہے لیکن پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی جانب سے اس حق کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

احمر بلال صوفی کے مطابق اگر پاکستان میں آئی سیف کنٹینرزکے اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ چلایاگیا، تو عدالت اس حوالے سے افغان اور ISAF حکام کو بھی طلب کر سکتی ہے۔

دریں اثنا وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنی رپورٹ میں اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے کسٹم کے نظام میں بڑے پیمانے پر بہتری لانے اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو میں اصلاحات کی سفارش بھی کی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ،اسلام آباد

ادرت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس