1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ٹانگوں میں بے چینی کا سبب بننے والے نئے جینز دریافت

طبی محققین نے ایسے جینز کا پتہ لگایا ہے جو ٹانگوں کی بے سکونی یا بے چینی کا مؤجب بن سکتے ہیں۔ ریسرچرز کا ماننا ہے کہ یہ جینز عمومی عصبی اضطراب یا اعصابی نقص میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

default

ایکسرے کے ذریعے ٹانگوں سے متعلق بیماریوں کی تشخیص اکثر ہو جاتی ہے

ماہرین نے دو ایسے نئے جینیٹک ریجنز یا موروثی جینز کی تشخیص کر لی ہے جو ٹانگوں کی بے چینی کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ جرمن شہر میونخ میں قائم انسٹیٹیوٹ آف ہیومن جینیٹکس کے ریسرچر Juliane Winkelmann اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اس نئی تحقیق سے Restless Legs Syndrome (RLS) یا ٹانگوں کی بے چینی کے عارضے کی مزید وجوہات کا پتہ چلانے اور اس کے علاج میں بہت مدد ملے گی۔

طبی ماہرین کی نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دو نئے اور ان سے ملتے جلتے پہلے سے شناخت شدہ جینز کا RLS سے گہرا تعلق ہو سکتا ہے اور یہی وہ موروثی جینز ہیں جن کے اعصابی نقائص کا باعث بننے کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ موروثی جینز دراصل انسانوں، حیوانات اورنباتات میں والدین کے حیاتیاتی خواص کی صورت میں بچوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہی موروثی جینز اکثر وبیشتر امراض کا سبب بھی ثابت ہوتے ہیں۔

22.06.2011 DW-TV Fit und Gesund Bein Rasur

خواتین میں ٹانگوں کی بے چینی کا مرض زیادہ عام ہے

یورپ، کینیڈا اور امریکہ کے طبی محققین پر مشتمل ایک انٹر نیشنل کنسورشیم کی طرف سے کی جانے والی اس نئی تحقیق کے نتائج معروف طبی جریدے PLoS Genetics میں حال ہی میں شائع ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹانگوں میں بے چینی اور اس کے سبب راتوں کو نیند نہ آنا ایک عام اعصابی نقص ہے اور 65 سال سے زائد عمر کے تقریباﹰ 10فیصد انسانوں کو اس بیماری کا سامنا ہے۔ اس عارضے میں مبتلا مریضوں کی ٹانگوں میں جھنجھناہٹ، چبھن یا سنسناہٹ پیدا ہوتی ہے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ ان کی ٹانگیں بے حس یا سُن ہو گئی ہوں۔ یہ کیفیت زیادہ تر رات کو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مریض جسم کو سکون پہنچاتے ہوئے بستر پر لیٹتا اور سونے کی کوشش کرتا ہے۔ ٹانگوں کی بے چینی مریضوں کو ٹانگیں زور زور سے ہلانے یا اسے تیزی سے حرکت دینے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس طرح پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت بے خوابی، دن کے وقت غنودگی کی سی کیفیت اور ڈپریشن یا پژمردگی اور دلشکستگی کا باعث بنتی ہے۔

کام کے اوقات میں زیادہ دیر تک کرسی پر بیٹھے رہنے سے بھی ٹانگیں سُن ہو جاتی ہیں

اس ریسرچ کے دوران ماہرین نے Restless Legs Syndrome RLS کے شکار 922 مریضوں کے جینز کا موازنہ 1,526 صحت مند افراد سے کیا۔ اس کے نتائج ویسے ہی نکلے جیسے کہ بعد میں RLS کے 3,935 مریضوں میں سے 76 امکانی مریضوں کے جینز کے نتائج سامنے آئے۔ ان تقریباﹰ چار ہزار مریضوں کے جینز کا موازنہ 5,754 صحت مند افراد سے کیا گیا تھا۔

اس طرح محققین نے چھ جینیٹک ریجنز یا موروثی جینز کا پتہ لگا لیا ہے، جن کا گہرا تعلق Restless Legs Syndrome سے نکلتا ہے۔ ان میں سے چار کی شناخت پہلے ہی ہو چکی تھی، جبکہ باقی دو کا پتہ حالیہ ریسرچ سے لگایا گیا ہے۔ جن دو نئے جینز کا پتہ چلا ہے ان میں سے ایک Tox3 ہے، جس کا کام دماغ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے سے ہے۔ قبل ازاں یہ سمجھا جاتا تھا کہ Tox3 پروٹین کی بڑھی ہوئی سطح دماغی خلیوں کو مرنے سے بچا تی ہے۔ تاہم Tox3 اور RLS کے مابین کیا ربط ہے؟ یہ امر ہنوز غیر واضح ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس