1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹارگٹ کلنگ: کراچی میں آٹھ روز میں 44 افراد ہلاک

گئے وہ دن کہ روشنیوں کا شہر کراچی پر امن ہوا کرتا تھا۔گزشتہ برسوں میں شہر میں بدامنی پہلے ایک مثال بنی تو پھر حالات کچھ سدھرتے نظر آئے۔ لیکن دو ماہ سے ملک کی یہ اقتصادی شہ رگ دوبارہ انتہائی کشیدگی کا شکار ہے۔

default

مبینہ دہشت گردوں کے زیر استعمال مکان کی ایک دھماکے میں تباہی کے بعدموقع پر موجود سیکیورٹی اہلکار

کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں گزشتہ ہفتے سے تیزی آ چکی ہے اور رواں سال کے ابتدائی آٹھ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کا آغاز یوم عاشور کے روز ہونے والے بم دھماکے کے بعد شروع ہوا جس میں جمعے تک 44 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان شامل ہیں۔ جمعہ کے روز کراچی میں ایسے ہی ایک واقعے کے نتیجے میں مزید پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ کراچی کے علاقے پاک کالونی میں پیش آیا ۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ جمعہ کے روز کراچی غربی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک مکان زوردار دھماکے سے زمین بوس ہو گیا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق سوات سے تھا اور وسیم احمد کے بقول وہ عسکریت پسند تھے جو کراچی میں کسی بڑی دہشت گردانہ کارروائی کا ارادہ رکھتے تھے۔

پولیس کو اس مکان کے ملبے سے خودکش جیکٹیں، 25 ہینڈ گرینیڈ، کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ بھی ملا ہے۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ واردات کچھ ایسی ہوسکتی تھی جس سے دہشت گرد کسی ہائی پروفائل ٹارگٹ کو نشانہ بناتے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی میں تھے اور کہا جاتا ہے کہ شائد وہی اس واردات کا نشانہ ہوتے۔

Anschlag in Karachi in Pakistan

کراچی میں عاشورہ کے جلوس پر بم حملے کے بعد پر تشدد مظاہروں کے دوران لی گئی ایک تصویر

کراچی کی موجودہ صورتحال سے مقامی شہری انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک شہری محمد زاہد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا: ’’ہم بہت خوفزدہ ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ ہم اپنے بچوں کو اسکول بھی نہیں بھیج سکتے کیونکہ ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ حالات خراب نہ ہو جائیں۔ لگتا ہے یہ دو گروپوں کی لڑائی ہے۔ اللہ جانے اس کا انجام کیا ہو گا۔‘‘

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمعے کو رینجرز ہیڈ کوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل لیاقت علی، ڈی جی ایف آئی اے ظفراللہ خان، ڈی جی ایف آئی اے سندھ میر زبیر محمود، آئی جی سندھ صلاح الدین بابرخٹک اور سٹی پولیس چیف وسیم احمد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر پہلے متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی اور رابطہ کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور پھر سندھ کے وزیر بلدیات آغا سراج درانی اور وزیر تعلیم پیر مظہر الحق بھی وہاں پہنچ گئے۔

بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سندھ کے بلدیاتی نظام کا مستقبل طے نہ ہونے کے بعد دونوں جماعتیں اپنی راہیں جدا کر سکتی ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں سے متعلقہ امور کے وفاقی وزیر فاروق ستار سے جب یہ پوچھا گیا کہ حکومت متحدہ قومی موومنٹ کو طلاق دے گی یا موومنٹ خلع لے لے گی، تو فاروق ستار نے کہا کہ علیحدگی زیادہ بہتر ہے۔

سندھ خاص طور پر کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد رحمان ملک نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے حکومت نے انتہائی اہم فیصلے کئے ہیں جن کی تفصیلات ایک دو روز میں سامنے آ جائیں گی۔

رحمان ملک نے مزید کہا کہ کراچی میں عاشورے کے روز ہونے والے بم دھماکے میں کوئی سیاسی جماعت ملوث نہیں ہے۔ یہ صرف اتحادیوں کو آپس میں لڑانے کی سازش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ رحمان ملک کے مطابق کراچی میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد دو ملین کے قریب ہے۔ لہٰذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن 15 روز کے اندر اندر اپنی رجسٹریشن کروا لیں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے گی۔

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ شہر کے بلدیاتی نظام کے حوالے سے قائم کور کمیٹی میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہیں۔

پیپلز پارٹی نے جمعے کے روز رینجرز سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی صورت میں شہر میں امن کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری طرف یہی گزارش متحدہ قومی موومنٹ نے ملکی فوج سے کی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں فوج اور امریکہ کی اہمیت کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کے پس منظر میں خاصی زیادہ ہوتی نظر آتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں پاکستان میں خاتون امریکی سفیر این پیٹرسن نے کراچی کا دورہ کیا تھا اور متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر نائن زیرو بھی گئی تھیں۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: مقبول ملک

DW.COM