ٹارگٹ کلنگ: ’مالی معاونت جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور برطانیہ سے‘ | حالات حاضرہ | DW | 28.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹارگٹ کلنگ: ’مالی معاونت جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور برطانیہ سے‘

کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن میں ابھی تک آٹھ سو اڑتالیس ٹارگٹ کلرز سمیت چھ ہزار تین سو اکسٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان ملزمان نے مجموعی طور پر سات ہزار افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

کراچی میں سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کی وارداتوں کے باعث ٹارگٹ کلنگ کی باز گشت پھر سے ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں سنی جا رہی ہے۔ تین برس سے جاری آپریشن کے باوجود گزشتہ ایک برس کے دوران کراچی پولیس کے پچپن، رینجرز اور بری فوج کے چار چار اہلکاروں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے جن کو قابو کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔

رینجرز کی جانب سے سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو کراچی کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہےکہ آپریشن کے دوران آٹھ سو اڑتالیس ٹارگٹ کلرز سمیت چھ ہزار تین سو اکسٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان ملزمان نے مجموعی طور پر سات ہزار افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن کے باعث شہر میں جرائم کی وارداتوں میں اسی فیصد تک کمی واقع ہوئے ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ بھی پچھہتر فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی میں دہشت گردی کے لئے جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور برطانیہ سے مالی معاونت کی جا رہی ہے۔

کیمٹی اراکین نے آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے رینجرز کے کرنل قیصر کو آئندہ اجلاس میں ان پانچ ہزار پانچ سو اٹھارہ افراد سے متعلق تفصیلی برینفگ دینے کی ہدایات کی، جنہیں گرفتاری کے بعد بغیر ایف آئی آر درج کئے رہا کر دیا گیا تھا۔ سینٹر طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے عسکریت پسند کھلے عام سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کر رہے ہیں اور یہ کہ کراچی میں امن و امان کے معاملات پولیس کے حوالے کئے جائیں۔

سینٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ رینجرز کی حراست کے دوران ایم کیو ایم کارکن آفتاب کی ہلاکت کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ اس معاملے پر دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا ڈوچے ویلے سے گفتگو ہوئے کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ اور تھائی لینڈ دنیا بھر کے جرائم پیشہ گروہوں کے لئے محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور ’غیر ملکی ایجنسیاں‘ ان ہی ممالک کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز نے ملک کے اعلیٰ ایوان میں، جو بیان دیا ہے، اس کے یقیناﹰ ان کے پاس ٹھوس شواہد ہوں گے کیونکہ گرفتار ملزمان کے بیانات سے ہی ثبوت تلاش کیے جاتے ہیں، ’’ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سمیت کئی دیگر جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے حکومتیں ان مسائل کو نظرانداز کرتی آئی ہیں البتہ فوجی حکمران بھی صورت حال کے کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔‘‘

تحقیقاتی اداروں کے مطابق کراچی میں چار طرح کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔ پہلی سیاسی بنیادوں پر، دوسری مذہبی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر، تیسری جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں اور چوتھی خالصتاﹰ کاروباری معاملات پر شہر میں ایسے گروہ موجود ہیں، جو پیسے لے کر قتل کی وارداتیں کرتے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے ماہر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مذہبی اور فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو کالعدم تنظیمیں نشانہ بنا رہی ہیں اور اس حوالے سے شہر میں رونما ہونے والی حالیہ وارداتوں کی تحقیقات کے دوران کالعدم تحریک طالبان کے ایک مخصوص گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جسے اسپیشل ٹاسک فورس کے نام سے شہرت مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی بڑی وارداتوں میں اسی گروپ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، ’’گروہ کا طریقہ واردات مختلف ہے اور دہشت گرد دانستہ طور پر وارداتوں کے درمیان دو سے تین ماہ کا وقفہ دیتے ہیں لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان تک پہنچنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔‘‘

تاہم انٹیلی جنس بیورو اور پولیس میں طویل عرصے تک خدمات سر انجام دینے والے دوست علی بلوچ رینجرز کی بریفنگ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دہشت گردوں کو بیرون ملک سے فنڈنگ کی جارہی ہے، ’’جن کو فنڈنگ مل رہی ہے تو گرفتاری کے بعد ان پر اسی نوعیت کے مقدمات بنائے جائیں۔ ان کے خلاف عدالتوں میں شواہد پیش کیے جانے بھی ضروری ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کو سزا دلائی جاسکے۔ پھر جن ممالک سے فنڈنگ کی جارہی ہے ان سے بھی پاکستان کے تحریری معاہدے ہیں تو پھر اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھائے جانے کے لئے بھی اقدامات کیے جانا ضروری ہیں۔‘‘