1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹائمز سکوائر ناکام حملہ، پاکستان میں گرفتاریاں

نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں رواں ماہ کی پہلی تاریخ کو ہونے والے ایک ناکام بم حملے سے تعلق کے شبے میں پاکستان میں چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

default

ان افراد پر نیویارک کے مشہور زمانہ ٹائمز سکوائر میں ناکام کار بم حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ہونے والے پاکستانی نژاد امریکی فیصل شہزاد سے تعلق کا شبہ ہے۔ حراست میں لئے جانے والے دو افراد کا تعلق اسلام آباد میں قائم غیر ملکی سفارت خانوں کے لئے خوارک کی ترسیل کرنے والی ایک کمپنی سے بھی ہے۔

حکام کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ یہ فیصل شہزاد کو جانتے ہیں۔ ایک پاکستانی خفیہ اہلکار نے ایک بین الاقوامی خبر ایجنسی کو بتایا کہ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا حراست میں لئے جانے والے یہ افراد کسی طرح سے اس کارروائی میں ملوث تھے یا نہیں۔

New York Time Square Bombe

پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد

یورپی ملک ناورے سے تعلق رکھنے والی ایک موبائل فون کمپنی ٹیلی نور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک ملازم کو پاکستانی خفیہ اہلکاروں نے اسی جرم کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔ اوسلو میں ٹیلی نور کے کمیونیکیشن شعبے کے نائب صدر Paal Kvalheim نے اپنے ایک بیان میں اس ملازم کا نام ظاہر کئے بغیر کہا کہ اسلام آباد میں کمپنی کے ایک ملازم کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

’’ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری کمپنی کے اس فرد پر لگائے گئے الزام درست نہیں ہوں گے اور ہم اس سلسلے میں پاکستان حکام سے ہر طرح کا تعاون کریں گے۔‘‘

امریکی دفتر استغاثہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ 3 مئی کو گرفتار ہونے والے فیصل شہزاد نے ٹائمز سکوائر حملے کی کوشش کی ذمہ داری قبول کی تھی اور وہ سیکیورٹی اہلکاروں سے مکمل طور پر تعاون کر رہے ہیں۔ دفتر استغاثہ کے مطابق پاکستان میں شہزاد کی بیوی اور ایک بچہ ہے اور فیصل شہزاد پچھلی بار پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھی گئے تھے، جہاں انہوں نے طالبان عسکریت پسندوں سے بم بنانے کی تربیت حاصل کی تھی۔

دریں اثناء جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں پاکستانی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ خفیہ اداروں نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشورمصطفیٰ

DW.COM