1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹائمز سکوائر ناکام بم حملہ، پاکستان میں ایک اور گرفتاری

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک ملازم کو ٹائمز سکوائر کے ناکام بم حملے میں معاونت کے الزام پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس نے مبینہ طور پر فیصل شہزاد کو پاکستان کے قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔

default

ٹائمز سکوائر

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے، ’فیصل عباسی کو گزشتہ ہفتے اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ بنوں سے لوٹ رہا تھا۔‘ بنوں پاکستان کا ایک شمال مغربی علاقہ ہے، جس کی سرحد قبائلی علاقوں سے ملتی ہے۔

اس سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ فیصل عباسی پر فیصل شہزاد کو مدد فراہم کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور سکیورٹی ایجنسیاں اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔

ایک اور سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص نے خود کو اسلامی نظریاتی کونسل کا ملازم بتایا ہے۔ یہ کونسل شریعہ قانون کے بارے میں حکومت کو سفارشات پیش کرتی ہے۔

پاکستانی پولیس نے گزشتہ ماہ کے اوائل میں بھی فیصل شہزاد کے ساتھ تعلق کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اسلام آباد کے پولیس سربراہ بنیامین نے مشتبہ افراد کے نام شعیب مغل، محمد شاہد اور ہانبل اختر بتائے ہیں۔

Faisal Shahzad

فیصل شہزاد

انہوں نے کہا کہ ان تینوں ملزمان کا حکیم اللہ محسود کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں سے قریبی تعلق رہا۔ تحریک طالبان نے ہی ٹائمز سکوائر کے ناکام بم حملے کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستان کا قبائلی علاقہ تحریک طالبان کا گڑھ ہے، جس پر ملک میں ہونے والے بعض بدترین خودکش حملوں کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے۔

امریکہ کی درخواست پر پاکستان نے فیصل شہزاد اور انتہاپسند گروپوں کے درمیان ممکنہ تعلق کی چھان بین شروع کر رکھی ہے۔ اسلام آباد حکومت نے 26 جولائی کو یہ تسلیم کیا تھا کہ شہزاد محسود سمیت متعدد انتہاپسندوں سے مل چکا ہے۔

جون میں فیصل شہزاد نے نیویارک کی عدالت میں ٹائمز سکوائر بم حملے کی کوشش کا اعتراف کیا تھا۔ اس نے خبردار کیا تھا کہ مسلمان ممالک سے نہ نکلنے کی صورت میں امریکہ کو ایسے حملوں کا سامنا رہے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM