1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹائمز اسکوائر میں ناکام حملہ: شہزاد کے لئے عمر قید

نيو يارک کے بہت مصروف ٹائمز اسکوائر پر بم رکھنے والے 31 سالہ پاکستانی نژاد امریکی شہری فيصل شہزاد نے جون ہی ميں يہ اعتراف کر ليا تھا کہ اُس نے يکم مئی کو مين ہيٹن کے مرکزی حصے ميں بم کا دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

default

فيصل شہراد نے يہ بھی تسليم کيا تھا کہ اس نے بم بنانے کی تربيت پاکستان کے ان طالبان سے حاصل کی تھی، جن کا تعلق تحريک طالبان پاکستان سے تھا۔ شہزاد نے دوران تفتيش يہ بھی بتايا تھا کہ اسی گروپ نے اس دھماکے کے لئے کار بم کی تیاری کے منصوبے کے لئے رقم بھی فراہم کی تھی۔

فيصل شہزاد کو منگل کے روز مين ہيٹن کی فيڈرل کورٹ کی ڈسٹرکٹ جج مريم گولڈ مين نے عمر قيد کی سزا سنائی، جس ميں پيرول پر رہائی کی کوئی رعايت نہيں رکھی گئی ہے۔ ہمسايہ رياست کنيکٹیکٹ ميں رہنے والے فيصل شہزاد نے سن 2009 ميں امريکی شہريت حاصل کی تھی۔

اس نے يکم مئی کو ٹائمز اسکوائر پر ايک وين کھڑی کی تھی جس کی ايمرجنسی لائٹیں روشن تھیں، اور انجن بھی دانستہ طور پر کام کرتا ہوا چھوڑ دیا گیا تھا۔ ليکن اس واقعے کے محض چند منٹوں کے اندر ہی مقامی دکانداروں نے پوليس کو اس وين کے بارے ميں مطلع کر ديا تھا۔ اس پر پولیس نے اس انتہائی مصروف علاقے سے ہزاروں لوگوں کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا تھا۔ پھر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر اس گاڑی میں نصب بم کو ناکارہ بنا ديا تھا، جو پروپين گيس کے سلنڈرز کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

Times Square Autobombe Anschlag

ٹائمز اسکوائر پر پوليس

فیصل شہزاد نے، جس کی اہليہ اور دو بچے پاکستان ميں رہائش پذير ہيں، پوليس کو بتايا تھا کہ اُس نے سوچا تھا کہ يہ بم کم از کم 40 افراد کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اس نے يہ بھی بتايا کہ اُس نے دو ہفتے بعد ايک دھماکے کے لئے ایک اور بم رکھنے کا منصوبہ بھی بنايا تھا، ليکن اپنی گرفتاری تک اسے يہ معلوم نہيں تھا کہ يہ دوسرا بم کہاں رکھا جانا تھا۔

پاکستانی فضائيہ کے ايک ريٹائرڈ وائس ایئرمارشل کے بیٹے شہزاد کو ٹائمز اسکوائر میں ناکام حملے کی کوشش کے دو دن بعد نيو يارک کے جان ايف کينيڈی ايئر پورٹ سے دبئی جانے والے ايک طيارے سے اتار کر گرفتار کيا گيا تھا۔ اس کے بقول وہ واپس پاکستان جا رہا تھا۔

شہزاد نے 10جرائم کا اعتراف کيا ہے، جن ميں بڑے پيمانے پر تباہی پھيلانے والے ہتھياروں کے استعمال کی کوشش اور قومی سرحدوں کے باہر دہشت گردی کی کوششيں بھی شامل ہيں۔ استغاثہ نے مستقبل ميں شہزاد کی طرف سے امريکی شہريوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے کے انديشے کا حوالہ ديتے ہوئے عمر قيد کی سزا کا مطالبہ کيا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ جب شہزاد ریاست کنيکٹیکٹ میں اپنے گھر ميں بم تيار کر رہا تھا، تو ساتھ ہی وہ کمپيوٹر پر ايسے مخصوص پروگرام بھی استعمال کر رہا تھا، جن کے ذريعے وہ تحريک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں سے مکالمت کر سکتا تھا۔

فيصل شہزاد نے سزا سنائے جانے کے بعد عدالت ميں کہا کہ امريکہ کی مسلم دنيا کے ساتھ جنگ ابھی شروع ہی ہوئی ہے۔ اُس نے کہا کہ امريکہ کی شکست ايک لازمی بات ہے اور يہ مستقبل قريب ميں ہو کر ہی رہے گا۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM