1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

يہوديوں کے جين دوسروں سے مختلف، ز اراسن کا متنازعہ بیان

جرمنی کے مرکزی بينک کے اعلٰی عہديدار اور اپوزيشن پارٹی ايس پی ڈی کے رکن ٹيلو زاراسن نے جرمنی کے مسلمانوں اور يہوديوں کے بارے ميں جن خيالات کا اظہار کيا ہے، اُن پر ملک کے بہت سے حلقوں کی طرف سے شديد تنقيد ہو رہی ہے۔

default

ساراسن، کتاب کا ٹائیٹل کے ساتھ

جرمن وزير خارجہ گیڈو ويسٹر ويلے اور يہوديوں کی مرکزی کميٹی نےزاراسن پر نسل پرستی، يہود دشمنی اور نفرت پھيلانے کا الزام لگايا ہے۔ جرمن چانسلر ميرکل نے بھی زاراسن کے نظريات پر تنقيد کی ہے اور اُنہيں قطعی طور پر ناقابل قبول قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وجہ سے معاشرے کے بعض گروپوں سے نفرت کی تحریک ملتی ہے۔ انہوں نے کہا:’’زاراسن غير ملکيوں کو معاشرتی دھارے ميں شامل کرنے کے اہم کام کو مشکل بنا رہے ہيں۔ ہميں اس سلسلے ميں مزيد بہت کچھ کرنا ہے ليکن زاراسن کے انداز گفتگو سے معاشرے میں تفرقہ پيدا ہو گا اور يہ بحث مشکل تر ہوجائے گی۔‘‘

اپوزيشن کی جماعت ايس پی ڈی ميں بھی زاراسن پر سخت تنقيد جاری ہے اور اُن کو پارٹی سے نکال دينے پر اب بہت سنجيدگی سے غور کيا جا رہا ہے۔ ايس پی ڈی نےآج زاراسن کے خلاف ضا بطے کی کارروائی شروع کرنے کا فيصلہ کر ليا ہے۔ ايس پی ڈی کی برلن کی صوبائی شاخ کے چيئر مين ميولر نے کہا کہ ايک سياسی پارٹی کسی رکن کی طرف سے اپنی بنيادی اقدار کی خلاف ورزی کو مستقل طور پر برداشت نہيں کر سکتی۔ زاراسن اپنے نظريات سے آبادی کے مختلف گروپوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کر رہے ہيں اور ان نظریات کا ايس پی ڈی سے کوئی تعلق نہيں ہے۔

NO Flash Guido Westerwelle in Berlin beim Sommerinterview

جرمن وزير خارجہ ويسٹر ويلے

جرمن وزير خارجہ اور نائب چانسلر ويسٹر ويلے نے بھی کہا ہے کہ نسل پرستی اور يہود دشمنی کو ہوا دينے والے خيالات کا سياسی بحث و مباحثے سے کوئی تعلق نہيں ہے۔ وزير دفاع سُو گٹن برگ نے کہا کہ اب سوال يہ ہے کہ کيا زاراسن مرکزی بينک کے بورڈ آف ڈائرکٹرز کی رکنيت کے لائق ہيں؟

چانسلر ميرکل نے يہ بھی کہا کہ مرکزی بينک کا تعلق صرف پيسے اور مالياتی امور ہی سے نہیں ہے بلکہ وہ اندرون ملک اور بيرون ملک پورے جرمنی کی ساکھ کے لحاظ سے بھی اہم ہے اور اس لئے اس بينک ميں بھی زاراسن کو عہدے پر برقرار نہ رکھنے پر ضرور غور کيا جائے گا۔

Deutschland Energiereise Angela Merkel in AKW Lingen

جرمن چانسلر انگیلا ميرکل

زاراسن نے اپنی آج شائع ہونے والی کتاب ميں خاص طور پر مسلمان ملکوں کے تارکين وطن پر تنقيد کرتے ہوئے دوسری باتوں کے علاوہ يہ بھی کہا ہے کہ وہ جرمن معاشرے ميں شامل ہونا ہی نہيں چاہتے۔ انہوں نے ايک اخباری انٹرويو ميں يہ بھی کہا کہ يہودی دوسروں سے اس لئے الگ ہوتے ہيں کيونکہ اُن کے جين مختلف ہيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس