1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

يونان پہنچنے کی کوشش میں ايک درجن مہاجرين ہلاک

يورپ پہنچنے کی کوشش میں بارہ مہاجرين يونان اور ترکی کے درميان واقع بحيرہ ايجيئن ميں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہيں جبکہ ترک ساحلی محافظوں نے پچيس مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا ہے۔

ترکی کی سرکاری اندولو نيوز ايجنسی کے مطابق مہاجرين کی ہلاکتيں بحيرہ ايجيئن ميں ترک ساحل کے قريب ان کی کشتی ڈوبنے کے نتيجے ميں ہوئيں۔ ايجنسی کے مطابق اس دوران پچيس مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا بھی ليا گيا۔ مہاجرين کا يہ گروپ يونانی جزيرے ليسبوز پہنچنے کی کوشش ميں تھا، جو يورپ تک رسائی کے ليے ابتدائی مقام کی حيثيت رکھتا ہے۔ تاحال ہلاک ہونے والوں کی شہريت کے بارے ميں کوئی اطلاع نہيں۔

ترک کوسٹ گارڈز کے مطابق مہاجرين کی لاشيں ايک لکڑی کی کشتی سے مليں، جو ترکی کے شمال مغربی ساحلی شہر Ayvalik سے ليسبوز کے ليے روانہ ہوئی تھی۔ ريسکيو حکام نے مہاجرين کی ٹيلی فون کالز موصول ہونے کے بعد پچيس مہاجرين کو بچا بھی ليا، جن کی کشتی ڈوب رہی تھی۔ واضح رہے کہ يورپ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران اس سال بحیرہ روم ميں ڈوب کر تين ہزار سے زائد مہاجرين ہلاک ہو چکے ہيں۔

دريں اثناء ايمنسٹی انٹرنيشنل نے ہفتہ بتاریخ سترہ اکتوبر يورپی يونين کے رہنماوں پر زور ديا ہے کہ وہ مہاجرين کے حقوق کو اپنی بيرونی سرحدوں کی نگرانی کے معاملے پر فوقيت ديں۔ ايمنسٹی کی طرف سے اس بارے ميں بيان ايک ايسے وقت جاری کيا گيا، جب جرمن چانسلر انگيلا ميرکل اتوار کے دن انقرہ حکام سے بات چيت کرنے والی ہيں۔ اس ملاقات ميں مہاجرين کی ترکی کے راستے يورپ تک رسائی کو کم کرنے اور اس کے بدلے انقرہ حکومت کی مدد سے متعلق يورپی يونين کا ايک مجوزہ منصوبہ زير بحث آئے گا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت ترک حکومت کو امدادی پيکج کے علاوہ ترک شہريوں کے ليے يورپی ممالک کے ويزوں ميں آسانی اور ترکی کی يورپی يونين ميں رکنت سے متعلق مذاکراتی عمل ميں تيزی لائی جانے کی پيشکش کی جائے گی۔ اس کے برعکس ايمنسٹی انٹرنيشنل کا کہنا ہے مہاجرين کو ترکی ہی ميں رکھنے سے متعلق يہ ڈيل دو بنيادی چيلنجز، ترکی ميں موجود مہاجرين کو درپيش مسائل کا حل تلاش کرنا اور يورپی يونين کی طرف سے مہاجرين کو تحفظ فراہم کرنے، کو نظر انداز کرتی ہے۔ اس تنظيم کے مطابق يورپی يونين کو مہاجرين کے ليے يورپ تک رسائی کے قانونی اور محفوظ راستے تلاش کرنے پر توجہ دينا چاہيے۔

کروشيا سے بسوں پر آنے والے مہاجرين کا پہلا گروپ سلووينيہ کی سرحد پر پہنچ چکا ہے

کروشيا سے بسوں پر آنے والے مہاجرين کا پہلا گروپ سلووينيہ کی سرحد پر پہنچ چکا ہے

دوسری جانب کروشيا سے بسوں پر آنے والے مہاجرين کا پہلا گروپ سلووينيہ کی سرحد پر پہنچ چکا ہے۔ مغربی يورپ پہنچنے کے خواہاں ان مہاجرين کو يہ نيا راستہ ہنگری کی طرف سے اپنی سرحديں بند کر دينے کے نتيجے ميں اختيار کرنا پڑا۔

سلووينيہ کی پوليس کے مطابق ہفتے کے دن پانچ بسوں ميں قريب تين سو مہاجرين Petisovci نامی چيک پوائنٹ پر پہنچے، جہاں دستاويزی کارروائی کے بعد انہيں آسٹريا کی سرحد پر مہاجرين کے ايک سينٹر منتقل کر ديا جائے گا۔ سلووينیہ کی نيشنل سکيورٹی کونسل آج اس موضوع پر مزيد بحث کر رہی ہے۔