1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

يونان ميں پھنسے ايک پاکستانی کے دل دہلا دينے والے انکشافات

علی نے ملک تو ترک کر دیا ليکن آج وہ کہيں زيادہ الجھنوں ميں گھرا ہوا ہے۔ گجرات سے يونان تک کے سفر ميں اُس نے جو کچھ ديکھا اور جو کچھ سہا، وہ بہت سے لوگوں کے دل دہلانے کے ليے کافی ہے۔

پاکستانی گجرات کا رہائشی علی نوکری کی تلاش ميں در بدر ٹھوکريں کھاتا رہا۔ اُس نے اپنے شہر کے ہر محکمے اور دفتر کا دروازہ کھٹکھٹايا مگر اُسے ملازمت نہ مل سکی۔ پھر بار پشتا کر اُس نے فيصلہ کيا کہ مذہب کی راہ پر چلا جائے اور انسانيت کی خدمت کی جائے، شايد اِسی بہانے بن ماں باپ کے علی کی زندگی آگے بڑھ سکے۔ فلاحی کام کے ذريعے روح کا سکون حاصل کرنے کے ليے علی جنگجو گروہ لشکر طیبہ کے امدادی ادارے جماعت الدعوۃ کے ساتھ منسلک ہو گيا۔ تاہم اِس جماعت نے علی کا غلط استعمال کيا اور اُس کے بقول اُسے چنيوٹ ميں مقيم احمدی کميونٹی کی جاسوسی پر لگا ديا۔

علی جماعت الدعوۃ کی سرگرميوں سے مطمئن نہيں تھا اور اِسی ليے اُس نے احمديوں کے بارے ميں جمع کردہ معلومات دينے سے انکار کر ديا۔ اِس کے رد عمل ميں جماعت الدعوۃ کے ارکان نے علی کو بہت مار پيٹا حتیٰ کہ وہ اِس قدر زخمی ہو گيا کہ اُس کے بچنے کی اميد کم ہی رہ گئی۔ آج بھی علی کا جسم زخموں سے چھلنی ہے۔ کسی نہ کسی طرح وہ اپنا جان بچا کر غير قانون طور پر پاکستان ترک کر کے يورپ پہنچ گيا۔

آج کل علی يونانی دارالحکومت ايتھنز ميں ہے۔ موجودہ صورتحال اور ملک بدريوں کے جاری عمل کے سبب اب وہ بے بس ہے اور اُسےکچھ سمجھ نہيں آتا کہ وہ کيا کرے۔ ڈی ڈبليو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اُس نے بتايا کہ وہ چھپا پھر رہا ہے اور اُسے خوف ہے کہ اگر اُسے واپس پاکستان بھيج ديا جائے، تو اُس کا کيا ہو گا۔

علی نے اپنا پيغام لوگوں تک پہنچانے کے ليے ڈی ڈبليو سے رابطہ کيا۔ بذريہ ٹيلی فون اپنے انٹرويو ميں اُس نے بہت سے ايسے دعوے کيے، جنہيں سن کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہيں۔ علی نے بتايا کہ اُس نے ديگر تارکين وطن کے ہمراہ گوادر کے قريب جيونی کے علاقے سے دو لاکھ روپے کے عوض سرحد پار کی اور ايران ميں داخل ہوا۔ علی نے دعویٰ کيا کہ ايران کا ايک بہت بڑا انسانی اسمگلر لوگوں کو سبز باغ دکھا کر يورپ اور دبئی بھيج رہا ہے۔ اُس کے بقول منڈی بہاؤدين، گجرات اور اطراف کے ہزارہا لوگ بلا جواز ہجرت کر رہے ہيں۔

علی نے بتايا، ’’جب ہم تہران پہنچے تو ايجنٹوں نے ہمارے بيگوں سے کپڑے وغيرہ نکال پھينکے اور منشيات ہمارے بستوں ميں بھر ديں اور ہم سے کہا کہ اِس سامان کو آگے ترکی لے جانا ہے۔‘‘ علی نے مزيد بتايا، ’’بارڈر کراس کرنے سے پہلے ہميں دہشت گرد تنظيموں داعش اور القاعدہ کے لوگ ملے۔ انہوں نے مہاجرين کو شام جا کر لڑنے کے ليے ڈيڑھ لاکھ روپے ماہانہ کی پيشکش کی اور کہا کہ اگر اِس دوران ہم ہلاک ہو گئے تو ہم شہيد کہلائيں گے۔‘‘ پاکستانی تارک طن نے بتايا کہ کچھ لوگ اس جانب راغب بھی ہوئے اور فيصل آباد سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانی چلے بھی گئے۔ اُنہيں دہشت گردوں نے تحفظ کی يقين دہانی کرائی اور کہا کہ اُنہيں اسحلہ استعمال کرنے کی تربيت فراہم کی جائے گی۔ علی دعویٰ کرتا ہے کہ شدت پسندوں نے اُسے اور ديگر مہاجرين کو ’يورپ فتح کرنے‘ کے ليے بيلجيم کے دارالحکومت برسلز کے علاقے مولن بيک لے جانے کی پيشکش بھی کی۔

علی کہتا ہے کہ ترکی پہنچ کر اُس نے منشيات سے بھرا اپنا بستا پھينک ديا کيونکہ وہ نہيں چاہتا تھا کہ منشيات لوگوں کی موت کا سبب بنيں۔ تاہم چونکہ منشيات اسمگل کرنے کے بدلے لوگوں کو بلا معاوضہ ترکی اور پھر يورپ تک پہنچايا جا رہا تھا، اِس ليے بہت سوں نے منشيات سے بھرے بيگ ترک نہيں کيے۔ علی کو يہ خوف بھی تھا کہ منشيات کے بيگ کے ساتھ اگر وہ پکڑا جائے، تو کيا ہو گا۔

يونان ميں پھنسا علی کہتا ہے کہ وہ يہی باتيں دوسرے لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے تاکہ اِس راہ پر چلنے والوں کو اندازہ ہو سکے کہ اُنہيں کيسے کيسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اُس کے بقول يونان ميں کوئی ميڈيا سيل وغيرہ نہيں جہاں جا کر وہ اپنی بات بتا سکے اور اِسی ليے اُس نے ڈی ڈبليو سے رابطہ کيا۔ علی اِس وقت ايتھنز ميں در بدر کی ٹھوکريں کھا رہا ہے۔ وہ زبان نہيں جانتا اور اُسے يہ خوف بھی کھائے جا رہا ہے کہ ملک بدری کی صورت ميں اُس کے ساتھ کيا ہو گا۔

يہ امر اہم ہے کہ علی ايک پاکستانی تارک وطن ہے، جس نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کے ليے اپنا دوسرا نام نہيں بتايا۔ اس آرٹيکل ميں تحرير کيے گئے دعووں سے ڈی ڈبليو کا کوئی تعلق نہيں، يہ محض اس مہاجر کی بيان کردہ باتيں ہيں۔