1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

يونان ميں اور زيادہ بچت کا منصوبہ

قرضوں کے بحران سے شديد متاثر يورو زون کا ملک يونان اپنی مالی حالت بہتر بنانے کے ليے بچتی اقدامات کو مزید سخت بنا رہا ہے۔ حاليہ ملکی تاريخ ميں پہلی بار رياستی کمپنيوں کے ملازمين کی برطرفی کا منصوبہ بنايا گيا ہے۔

يونان کے وزير اعظم پاپاندريوس

يونان کے وزير اعظم پاپاندريوس

يونان اب اپنے قرضوں کے بحران سے نمٹنے اور خستہ مالی حالت کو بہتر بنانے کے ہر ممکن اقدام پر تيار نظر آتا ہے۔ اُس نے سرکاری محکموں اور رياستی اور نيم رياستی اداروں سے ملازمين کو بڑی تعداد ميں بر طرف کرنے کا فيصلہ کيا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم 10 فيصد عملے، يعنی کم از کم 20 ہزارافراد کی برطرفی کا فيصلہ کيا جا چکا ہے۔

ايتھنز ميں وزارت خزانہ نے اب 151 اداروں اور محکموں کو دو ہفتوں کے اندر برطرف کيے جانے والے ملازمين کی فہرست پيش کرنے کی تحريری ہدايت کی ہے۔ ان افراد کو ’محفوظ افرادی قوت‘ کے خانے ميں داخل کر ديا جائے گا، جس کا مطلب يہ ہے کہ اُنہيں ملازمت سے تو نکال ديا جائے گا ليکن وہ ايک سال تک کے ليے اپنی تنخواہ کا 60 فيصد وصول کرتے رہيں گے۔ برخواست کيے جانے والے ملازمين ميں سب سے پہلے اُن کا انتخاب کيا جائے گا، جو پينشن کی عمر کے قريب پہنچ چکے ہيں، جو کم تعليم يافتہ ہيں اور انتظاميہ يا سيکرٹريٹ ميں کام کرتے ہيں۔

يونان کے پرچم پر مختلف يورو سکوں کا ڈھير

يونان کے پرچم پر مختلف يورو سکوں کا ڈھير

اندازہ ہے کہ کم ازکم 20 ہزار افراد کی ملازمت سے جبری برطرفی سے يونانی رياست اوسط مدت ميں سينکڑوں ملين يورو سالانہ بچا سکے گی۔ ليکن يونان کے ليے اس کی ايک بہت بڑی علامتی اہميت بھی ہے۔ يونان ميں پچھلی ايک صدی سے بھی زيادہ مدت کے دوران سرکاری ملازمين کے ملازمت سے نکالے جانے کا يہ پہلا موقع ہے۔

اس اقدام کو يورپی يونين اور بين الاقوامی مالياتی فنڈ کے ليے يونان کا يہ پيغام بھی سمجھا جانا چاہيے کہ وہ بچت کے سلسلے ميں واقعی بہت سنجيدہ ہے۔

يونانی حکومت نے رياستی ٹيلی وژن کے روايتی ليکن کم ديکھے جانے والے چينل ’ای ٹی ايک‘ کو بھی سال کے آخرتک بند کرنے کا اعلان کيا ہے۔ ڈيجيٹل چينل پرزما کو بھی بند کيا جا رہا ہے۔

برلن ميں يونانی سفارتخانہ

برلن ميں يونانی سفارتخانہ

يورپی يونين نے اپنی ايک ٹاسک فورس يونان بھيجنے کا اعلان کيا ہے جس کا کام يہ بھی ہو گا کہ يورپی يونين سے يونان کو تقريباً 14 ارب يورو کی جو امداد ويسے ہی ملتی ہے اُس کی کار گر سرمايہ کاری ميں مدد دی جائے۔

 

 

رپورٹ: اشٹيفن وورسل، استنبول / شہاب احمد صديقی

ادارت: افسر اعوان

 

DW.COM