1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

يونان بچت اور اصلاحات کی تحريری ضمانت دے: يورو گروپ

يورو گروپ کے ممالک اب يونان سے کہہ رہے ہيں کہ اُسے اپنے رياستی اخراجات پورا کرنے کے ليے امدادی پيکج سے آٹھ ارب يورو اُسی صورت ميں ادا کيے جائيں گے جب وہ بچت اور اصلاحات کی تحريری طور پر ضمانت دے۔

برسلز ميں يورو زون کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

برسلز ميں يورو زون کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

جہاں يونان کی سياسی پارٹياں وسيع تر قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی کوششوں ميں مصروف ہيں، وہاں يورو گروپ کے ممالک کے وزرائے خزانہ نے يونان سے مطالبہ کيا ہے کہ اُس کی دونوں اہم سياسی جماعتيں اکتوبر کے آخر ميں ہونے والی يورپی يونين کی سربراہی کانفرنس ميں طے پانے والے بچت اور اصلاحات کے پروگرام کو تحريری طور پر تسليم کريں۔ اس موقعے پر يورپی يونين کے مالياتی کمشنر اولی رين نے، جو عام طور پر ايک محتاط شخص ہيں يونان کے اب تک کے وزير اعظم پاپاندريو کے طرز عمل پر بہت کھل کر تنقيد کی اور کہا: ’’ہم اپنا کام کر رہے ہيں اور يونان سے اميد رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کرے۔ ميرا خيال ہے کہ ميں تنہا شخص نہيں ہوں، جسے يہ احساس ہوا کہ پاپاندریو کی طرف سے 27 اکتوبر کی سربراہی کانفرنس کے سمجھوتوں پر يونان ميں عوامی ريفرنڈم کرانے کا يکطرفہ فيصلہ اعتماد کو مجروح کرنے والا قدم تھا۔‘‘

اولی رين

اولی رين

يورو گروپ کے قائد ژاں کلود يُنکر پاپاندريو کے اس اقدام پر صرف برہم ہی نہيں ہيں بلکہ انہوں نے يونان کی پوری سياست پر ناکام ہو جانے کا الزام لگايا، کيونکہ اُس نے اتنے شديد بحران ميں اجتماعی کوشش شروع کرنے ميں اتنا زيادہ وقت لگا ديا: ’’آپ کو معلوم ہونا چاہيے کہ جرمنی، ہالينڈ، بيلجيئم یا آسٹريا کے عوام کو يہ سمجھانا کتنا دشوار ہے کہ اُنہيں يونان سے يکجہتی کا اظہار کرنا چاہيے، جبکہ خود يونان ميں صورتحال کے مشترکہ تجزيے اور ايک قومی اتفاق رائے پر آمادگی نہ ہو۔‘‘

ژاں کلود يُنکر

ژاں کلود يُنکر

اگر يونان ميں سب کچھ صحيح ہوتا رہے اور پارٹياں بچت کے پروگرام پر عمل کا عہد کر ليں تو اُسے رواں امدادی پيکج سے آٹھ ارب يورو کی رقم دے دی جائے گی۔

يورو زون کی تيسری بڑی معيشت اٹلی پر يونان کے بعد سب سے زيادہ قرضے واجب الادا ہيں اور يورو زون کے وزرائے ماليات کو اٹلی کی طرف سے بھی بہت فکر ہے۔ اٹلی کو سن 2013 تک اپنے بجٹ کے خسارے پر قابو پانا، پنشن کی عمر بڑھا کر 67 سال کرنا اور اپنی روزگار کی منڈی کو کھولنا ہے۔

رپورٹ: کرسٹوف ہاسل باخ / شہاب احمد صديقی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM