1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

يونانی حکومت کے مزيد بچتی اقدامات پر مظاہرے

يورو زون ميں شامل ملک يونان کا قرضوں کا بحران ہر ممکن کوششوں کے باوجود شديد تر ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت ملک پر عائد بھاری قرضوں کو کم کرنے اور اس طرح مزيد قرضے حاصل کرنے کے ليے آئے دن بچتی اقدامات کر رہی ہے۔

عام ہڑتال کے دوران ايتھنز ائر پورٹ

عام ہڑتال کے دوران ايتھنز ائر پورٹ

يونانی حکومت نے بچت کے اقدامات کے سلسلے ميں ايک بڑی تعداد ميں سرکاری ملازمين کو برخاست کرنے کا اعلان بھی کيا ہے۔ اس کے خلاف آج ملک بھر ميں ہڑتال کی جا رہی ہے، جس سے زندگی کے بہت سے شعبوں کی سرگرمياں معطل ہو گئی ہيں۔ ہوائی اڈوں ميں فلائٹ کنٹرولر 24 گھنٹوں کی ہڑتال پر ہيں۔ اس کے نتيجے ميں يونان آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی پروازيں بند ہيں۔

اس ہڑتال کی وجہ سے وزارتيں، رياستی ادارے اور اسکول بھی بند پڑے ہيں۔

آج کی ہڑتال يونانی ٹريڈ يونين تنظيموں کی، سرکاری ملازمين کی برخاستگی کے خلاف ايک نئی احتجاجی لہرکا حصہ ہے۔ اگرچہ دارالحکومت ايتھنز کی انڈر گراؤنڈ ريلوے اس ہڑتال ميں شريک نہيں ہے ليکن اس کے باوجود لوکل ٹرينوں کی آمدورفت ميں خلل پڑ رہا ہے۔ بس ڈرائيورں کی ٹريڈ يونين کے جنرل سکريٹری اليکساندروس کومينيس نے کہا: ’’ملازم پيشہ افراد کے ہاتھ ميں صرف ايک ہی ہتھيار تو ہوتا ہے: اسٹرائک۔ ہمارے اختيار ميں کچھ اور تو ہے ہی نہيں۔ ہم سياستدانوں کو اس پر آمادہ نہيں کر سکتے کہ وہ خود کو ہماری جگہ تصور کريں کيونکہ وہ تو پيشہ ور سياستدان ہيں اور اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہيں۔‘‘

ايتھنز ميں مظاہرين اور پوليس

ايتھنز ميں مظاہرين اور پوليس

 پچھلے ڈيڑھ سال سے يونانی عوام پر مسلسل زيادہ ٹيکس لادے جا رہے ہيں۔

 آج کم ازکم  16 ہزارمظاہرين ايتھنز کے مرکزی حصے پر امڈ آئے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ قرضے معاف کر ديے جائيں اور دولتمند پيسہ ادا کريں۔  وکلاء، اساتذہ اور ٹيکس افسر بھی ہڑتال ميں حصہ لے رہے ہيں۔ اکثر مظاہرين پرامن تھے ليکن کچھ لوگوں نے پوليس پر پتھراؤ کيا جس پر پوليس نے آنسو گيس استعمال کی۔ ايک شخص کے سر سے خون بہتے ديکھا گيا۔ ايتھنز ميں مظاہرين نے چھ وزراء کو گھيرے ميں لے رکھا ہے۔

يونانی وزير خزانہ ايوانگيلوس وينی زيلوس نے کہا کہ يونان کے پاس اگلے ماہ کے وسط تک پنشنوں، تنخواہوں اور بونڈ ہولڈرز کو ادا کرنے کے ليے کافی رقم ہے ليکن اُسے ديواليے ہونے سے بچانے کے ليے ساڑھے دس بلين ڈالر کے اگلے قرض کی ضرورت ہو گی۔

يونانی وزير خزانہ وينی زيلوس

يونانی وزير خزانہ وينی زيلوس

ايتھنز ميں مظاہرين نے غير ملکی قرض دہندگان پر غصہ اتارا اورکہا کہ انہيں کم ہی اميد ہے کہ بچت کے سخت اقدامات سے لمبے عرصے ميں حالات بہتر ہو سکيں گے۔

وزير خزانہ وينی زيلوس نے اپنے ہم وطنوں سے اپيل کی کہ وہ ٹيکس ادا کريں اور صورتحال کو مزيد خراب ہونے سے بچانے کے حکومتی اقدامات ميں مدد ديں۔

رپورٹ: اشٹيفن ورسل، ايتھنز / شہاب احمد صديقی

ادارت: عدنان اسحاق      

 

DW.COM