1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

يونانی جزائر پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد ميں واضح کمی

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرين کے مطابق حاليہ دنوں ميں يونانی جزائر پر پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ميں واضح کمی رونما ہوئی ہے۔ دريں اثناء جرمن وزير داخلہ نے يورپ ميں پناہ ديے جانے والوں کی حد مقرر کرنے کا کہا ہے۔

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرين کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ اتوار کے دن مختلف يونانی جزائر پر کُل صرف 155 پناہ گزين پہنچے۔ ماہ نومبر ميں يوميہ بنيادوں پر اوسطً ساڑھے چار ہزار پناہ گزينوں کی آمد ريکارڈ کی گئی اور اس حساب سے تارکين وطن کی آمد ميں يہ واضح کمی ہے۔

بين الاقوامی ادارے کے مطابق اس پيش رفت کو تيزی سے بگڑتے ہوئے موسم سے جوڑا جا سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کشتيوں پر خطرناک سندری سفر موسم سرما اور بارشوں کے درميان اور بھی پُر خطر ثابت ہو سکتا ہے۔ IOM کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک بحيرہ ايجيئن ميں 585 پناہ گزين يورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو چکے ہيں۔

دريں اثناء بلقان خطے کے چند ممالک کی جانب سے پچھلے ہفتے متعارف کرائے جانے والے اقدامات کے نتيجے ميں ايران، پاکستان اور بنگلہ ديش سے تعلق رکھنے والے سينکڑوں پناہ گزين يونان اور مقدونيہ کی سرحد پر پھنس گئے ہيں۔ کچھ بلقان ممالک اب صرف افغانی، شامی اور عراقی پناہ گزينوں کو ہی آگے بڑھنے دے رہے ہيں اور ديگر ملکوں کی شہريت کے حامل مہاجرين کوسرحد پر ہی روک دیا جاتا ہے۔ يہ اقدامات مقدونيہ، سربيا، سلووينيا اور کروشيا کی طرف سے ليے گئے ہيں۔

نتيجتاً کروشيا ميں بدھ کے روز صرف 1,808 پناہ گزينوں کا اندراج ہوا، جو کہ يوميہ اوسط تعداد سے کافی کم ہے۔ پناہ گزينوں ستمبر کے وسط سے مغربی يورپ تک پہنچنے کے ليے کروشيا اور بلقان کے دیگر ممالک کا راستہ اختيار کر رہے ہیں۔ اس وقت سے اب تک کروشيا ميں يوميہ چھ ہزار اور مجموعی طور پر 444,000 مہاجرين کا اندراج ہو چکا ہے۔

جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر

جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر

دوسری جانب جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا ہے کہ يورپ کو ايسے پناہ گزينوں کی نشاندہی کرنی چاہيے، جو فوری طور پر اور حقيقی معنوں ميں پناہ کے مستحق ہوں۔ اس کے علاوہ جرمن وزير نے مشورہ ديا ہے کہ يورپ کو سياسی پناہ ديے جانے والوں کی حد مقرر کرنی چاہيے۔ ڈے ميزيئر نے آسٹريا کے اخبار ’ڈيئر اسٹينڈرڈ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے يہ باتيں کہيں۔ جرمن وزير نے اپنے انٹرويو ميں اگرچہ کسی تعداد کا ذکر نہيں کيا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اچھی تعداد ميں پناہ گزينوں کو پناہ دی جانی چاہيے مگر تعداد کے معاملے ميں ايک اوپری حد لازمی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات