1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

يورپی يونين کے خارجہ امور کے سربراہ خاوير سولانا کی ریٹائرمنٹ

اسپين سے تعلق رکھنے والے خاوير سولانا،دس سال تک يورپی يونين کے خارجہ امور کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد اب سڑسٹھ برس کی عمر ميں ريٹائر ہونے والے ہيں۔

default

خاوير سولانا

EU Sterne spiegeln sich im Europa Rat

اب يورپ کو ايک نئے عہديدار کی ضرورت ہے جوخارجہ امور پر يورپ کے متفقہ موقف کی ترجمانی کا کام انجام دے سکے

دس سال قبل يورپی يونين نے اپنی مشترکہ خارجہ اور سلامتی کی سياست کےذمے دار کے طور پر ايک اعلیٰ عہديدار مقرر کرنے کا فيصلہ کيا تھا۔ اب تک اس عہدے کے فرائض صرف سابق ہسپانوی وزير خارجہ اور نيٹو کے جنرل سيکريٹری خاوير سولانا ہی انجام ديتے رہے ہيں ،جنہيں يورپی يونين کا اعلی ترين سفارتکار کہا جاتا ہے۔ ان کا بنيادی فرض منصبی، يورپی يونين کے رکن ملکوں کی خارجہ اور دفاعی سياست ميں ربط پيدا کرنا اور اسے مذاکرات کے دوران يورپ کی متفقہ پاليسی کے طور پر پيش کرنا تھا۔ اب سولانا نے ايک ہسپانوی اخبار کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس عہدے کے لئے تيسری بار اميدوار نہيں ہوں گے۔ ان کے عہدے کی مدت اس سال خزاں ميں ختم ہو رہی ہے۔ مشرق وسطی کے تنازعے ميں ثابت قدمی سے مشکل مذاکرات کرنے والے اور بلقان کے بحران ميں ثالث کا کردار ادا کرنے والے خاموش مزاج سولانا پر تنقيد بھی کی جاتی ہے کہ وہ دھيمے مزاج کے اور کچھ زيادہ ہی کم گو ہيں۔

خاوير سولانا،جو چودہ جولائی کو سڑسٹھ سال کے ہوں گے،اپنے مقصد پر پختہ يقين رکھتے ہيں۔ان کا کہنا ہے کہ بہت سے انسان ،خارجہ سياسی امور پر يورپ کی رائے کو اہميت ديتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت سے ممالک کے دورے کئے ہيں اور ہر جگہ ہی يورپی يونين کا احترام کيا جاتا ہے۔سولانا نے کہا کہ ہم جس پيچيدہ دنيا ميں رہ رہے ہيں، اس ميں ہم اپنے ساتھ اميديں وابستہ کرنے والوں کو مايوس نہيں کرسکتے۔

يورپی يونين کے امورخارجہ کے نئے عہديدار بننے کے خواہشمند،سوئيڈن کے وزير خارجہ کارل بلٹ اور يورپی پارليمنٹ کے فرانسيسی رکن مشيل باربئير ہيں۔ اس عہدے پر انتخاب کے سلسلے ميں اميدوار کے سياسی رجحان،اس کے ملک کی اہميت ،علاقوں کے لحاظ سے عہدوں کی تقسيم اور اميدوار کی ذاتی قابليت کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔

يورپی يونين کے خارجہ امور کے ذمے دار کے عہدے کے پيچھے يہ نظريہ کارفرم تھا کہ عالمی سياسی مسائل پر يورپ کا متفقہ اور مشترکہ موقف پيش کيا جاسکے۔ دوسری طرف يہ بھی ضروری ہے کہ خارجہ سياست کا ذمے دار جو بھی کہے، يورپی يونين کے تمام ستائيس ملکوں کے وزرائے خارجہ اس کی پوری حمايت کريں۔يہی وجہ ہے کہ خاوئير سولانا کے بيانات اکثر بہت مبہم ہوتے ہيں۔ معاملے کی پنچيدگی اس وجہ سے بھی ہے کيونکہ سولانا کے علاوہ يورپی کونسل کے صدر اور يورپی کميشن کے صدر بھی خارجہ امور ميں يورپی يونين کی نمائندگی کرتے ہيں۔اس کے علاوہ خارجہ امور کے کمشنر کا عہدہ بھی ہے جس پر اس وقت فريرو والڈ نر فائز ہيں۔وہ، يورپی يونين کے براہ راست ہمسايہ ملکوں کی ذمے دار ہيں۔ان پيچيدہ ڈھانچوں کی وجہ سے امور خارجہ کے سلسلے ميں بار بار اپنے فرائض منصبی سے تجاوز کرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہيں۔ سولانا نے اس پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح ہم قيمتی وقت ضائع کرديتے ہنں۔ جب بھی دنيا ميں کہيں کوئی بحران يا سياسی مسئلہ پيدا ہوتا ہے تو زيادہ دير تک انتظار نہيں کيا جاسکتا کيونکہ اس سے وقت،پيسہ،قوت اور ممکنہ طور پر انسانی جانيں بھی ضائع ہو سکتی ہيں۔

سولانا ،فزکس ميں ڈگری يافتہ ہيں۔طالبعلمی ہی کے زمانے ميں وہ 1964ميں اسپين کی سوشلسٹ پارٹی ميں شامل ہو گئے تھے۔اسپين ميں فرانکو کی آمريت کے خاتمے کے بعد 1977 ميںوہ پارليمنٹ کے رکن منتخب ہوئےاور وزير تعليم اور پھر وزيرخارجہ کے عہدے پر فائز رہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک