1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’يورپی ممالک مہاجرين کے بحران سے نمٹنے ميں اٹلی کی مدد کريں‘

پناہ کے ليے يورپ کے سفر پر گامزن قريب ڈھائی ہزار مہاجرين کو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بحيرہ روم ميں بچا ليا گيا جبکہ درجنوں تاحال لاپتہ ہے۔ UNHCR نے يورپی ملکوں پر زور ديا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے ميں اٹلی کی مدد کریں۔

ہفتہ دس اور اتوار گيارہ جون کے دوران بحيرہ روم ميں مختلف کارروائيوں کے دوران کم از کم ڈھائی ہزار تارکين وطن کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا۔ اطالوی کوسٹ گارڈز نے ايک کشتی سے آٹھ پناہ گزينوں کی لاشيں بھی نکاليں۔ علاوہ ازيں آخری اطلاعات موصول ہونے تک باون مہاجرين لاپتہ ہيں۔ کوسٹ گارڈز نے انسانی جانوں کو بچانے کے ليے ايک درجن سے زائد کارروائياں کيں۔

بلقان روٹ کی بندش کے بعد سے پناہ گزين يورپ تک رسائی کے ليے ليبيا سے بحيرہ روم کے راستے اٹلی پہنچنے کی کوشش کرتے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے مطابق يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران اس سال اب تک تقريباً اٹھارہ سو مہاجرين ہلاک يا لاپتہ ہو چکے ہيں۔ بحيرہ روم کا يہ راستہ مقابلتاﹰ زيادہ خطرناک ہے اور يہی وجہ ہے کہ ليبيا اور اٹلی کے کوسٹ گارڈز يوميہ بنيادوں پر ريسکيو آپريشنز جاری رکھے ہوئے ہيں۔

يو اين ايچ سی آر نے ديگر يورپی ملکوں پر زور ديا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے اور ريسکيو کارروائيوں ميں اٹلی کی مدد کی جائے۔ اس بارے ميں ادارے کی جانب سے جاری کردہ ايک بيان ميں کہا گيا ہے، ’’مسائل کا حل صرف اٹلی ميں نہيں۔ وسطی بحيرہ روم کے دونوں اطراف کے ممالک کو انسانوی کی اسمگلنگ کو روکنے کے ليے نئے اقدامات اٹھانا پڑيں گے۔‘‘ ايجنسی نے ان ممالک ميں بھی کارآمد اقدامات کا مطالبہ کيا ہے، جن سے گزر کر تارکين وطن ليبيا پہنچتے ہيں۔ سن 2014 سے ليبيا سے تارکين وطن کی يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت کافی بڑھ گئی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات