1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’يورپی شہری برطانيہ سے نکل جائيں، لیکن کیوں؟‘

برطانوی حکومت نے اس دستاويزی غلطی کے ليے معافی مانگ لی ہے، جس ميں برطانيہ ميں مقيم تقريباً ايک سو يورپی باشندوں کو خطوط کے ذريعے ايک ماہ کے اندر اندر ملک چھوڑ دينے کے احکامات جاری کر ديے گئے تھے۔

برطانوی وزارت داخلہ کی ايک ترجمان نے جمعرات چوبيس اگست کے روز  بتايا کہ حکام متاثرہ افراد سے معافی مانگ چکے ہيں اور اس سلسلے ميں تحقيقات جاری ہيں کہ يہ غلطی کيسے سرزد ہوئی۔ خاتون ترجمان نے مزيد کہا، ’’ہم ان تمام افراد کے ساتھ رابطے ميں ہيں، جنہيں يہ خطوط موصول ہوئے تاکہ انہيں يہ بتايا جا سکے کہ وہ اس خط کو بے معنی سمجھيں اور يہ بھی کہ برطانيہ ميں ان کے حقوق ميں کوئی تبديلی نہيں آئی ہے۔‘‘ قبل ازيں وزير اعظم ٹيزيزا مے بھی ہوم آفس کی اس کوتاہی کا ذکر کرتے ہوئے برطانيہ ميں مقيم يورپی باشندوں کو يقين دہانی کرا چکی ہيں کہ انہيں ہر گز ملک بدر نہيں کيا جائے گا۔

يہ کوتاہی اس وقت منظر عام پر آئی، جب مائکرو بلاگنگ ويب سائٹ ٹوئٹر کی ايک صارف اور برطانيہ ميں مقيم فن لينڈ کی شہری ايوا يوہانا ہولمبرگ نے اس بارے ميں ايک پيغام جاری کيا۔ لندن کی ’کوئين ميری يونيورسٹی‘ کی اس طالبہ نے لکھا، ’’دفتر داخلہ فن لينڈ کی ايک طالبہ کو ملک بدر کرنا چاہتا ہے، جو ايک طالب علم ہے، برطانيہ ميں ٹيکس ادا کرتی ہے اور برطانيہ ہی کے ايک شہری کے ساتھ شادی شدہ بھی ہے۔‘‘ ان کے اس پيغام کے بعد سوشل ميڈيا پر  ایک واويلا مچ گیا۔ اطلاع ہے کہ متعلقہ دفتر کی جانب سے تقريباً ايک سو افراد کو ايسے انتباہی خطوط ارصال کيے گئے تھے۔

برطانيہ ميں اس وقت ديگر يورپی ممالک کے شہريوں کی تعداد 3.2 ملين ہے۔ ابھی تک انہيں وہاں قيام اور ملازمت کے ليے کسی خصوصی ويزے وغيرہ کی ضرورت نہيں تاہم برطانيہ کے يورپی يونين سے اخراج يا بريگزٹ کے بعد يہ صورتحال غير واضح ہے۔ بيگزٹ مذاکرات ميں ان شہريوں کے حقوق ايک اہم معاملہ خیال کیا جاتا ہے۔