1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

يورپی سرحدوں پر پھنسے مہاجرين مايوسی اور بے يقينی کا شکار

سربيا اور ہنگری کی سرحد پر ايک عارضی کيمپ ميں موجود پناہ گزين انتہائی ناقص اور مایوس کن حالات ميں زندگی بسر کر رہے ہيں۔ ہنگری کی جانب سے سخت تر اقدامات پر عملدرآمد کے سبب اب ان کے حالات اور بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

سربيا اور ہنگری کی سرحد پر ايک مہاجر کيمپ ميں ہزاروں مہاجرين اپنے آبائی ممالک ميں جاری جنگ و جدل سے فرار ہو کر آئے ہيں تاہم انہيں يہ نہ معلوم تھا کہ پناہ کے سفر ميں انہيں کن کن مشکلات سے گزرنا ہو گا۔ کيمپ ميں پينے کے پانی کا صرف ايک نل ہے، نہ کوئی غسل خانہ ہے اور نہ ہی بيت الخلاء کی سہولت۔ رات کو سوتے وقت مچھر اور کيڑے مکوڑے تو ايک طرف، کبھی کبھار سانپ بھی نکل آتے ہيں۔ گويا بے يقينی اور مايوسی کے سوا ان پناہ گزينوں کی زندگيوں ميں اور کچھ نہيں۔

اس مقام پر موجود زيادہ تر مہاجرين کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے۔ ان تارکین وطن نے بحيرہ روم کے خطرناک سمندر راستوں کی نسبت بلقان ممالک سے گزرنے والے روايتی زمينی روٹ کو فوقيت دی۔ تارکين وطن ہنگری کی سرحد پر نصب باڑ کے ساتھ اس انتظار ميں بيٹھے ہيں کہ کسی نہ کسی طرح ہنگری انہيں ملک ميں داخل ہونے دے تاہم يوميہ بنيادوں پر محض پندرہ افراد کو داخل ہونے کی اجازت ہے۔ عام طور پر چھوٹے بچوں والے خاندانوں کو ہی داخل ہونے ديا جاتا ہے۔

ہوگوس نامی اس کيمپ ميں مقيم ايک افغان خاندان قريب ايک ہفتے سے اس جگہ موجود ہے۔ اس اہل خانہ ميں شامل عورت اور مرد دونوں ہی افغانستان ميں ايک غير ملکی تنظيم کے ساتھ منسلک تھے اور اسی سبب اپنی جان کو خطرہ محسوس ہوتے ہوئے انہوں نے فرار ہونے کا فيصلہ کيا۔ کيمپ کے حالات کے بارے ميں بات کرتے ہوئے اٹھائيس سالہ حميد سعيد نے بتايا، ’’يہاں کوئی سہوليات ميسر نہيں۔ نہ بيت الخلاء ہے، نہ غسل خانہ، ميں چار دنوں سے غسل نہيں کر سکا ہوں۔‘‘ حميد کی اہليہ تيئس سالہ آزادہ نے شکايت کی کہ دن کے وقت گرمی کی شدت بہت زيادہ ہوتی ہے جبکہ رات کے وقت سردی ہو جاتی ہے۔ اس کے بقول کيڑے مکوڑوں سے لے کر سانپ تک آس پاس پھرتے رہتے ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ ان دونوں نے ہنگری ميں سياسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے ليکن تاحال انہيں کوئی جواب موصول نہيں ہوا۔ ان کے بقول وہ يورپی يونين ميں قانونی طريقے سے داخل ہونا چاہتے ہيں نہ کہ انسانی اسمگلروں کا سہارا لے کر۔

دريں اثناء منگل پانچ جولائی سے بوداپسٹ حکام نے يورپ ميں داخل ہونے والے مہاجرين کی تعداد کو مزيد محدود کرنے کے ليے سخت تر اقدامات پر عملدرآمد شروع کر ديا ہے۔ ان اقدامات کے تحت جن مہاجرين کو سرحد کے ارد گرد آٹھ کلوميٹر کے رقبے سے حراست ميں ليا جائے گا، انہيں سرحد پر سربيا کی حدود ميں منتقل کر ديا جائے گا، جہاں وہ سياسی پناہ کی درخواستيں دينے کے ليے انتظار کريں گے۔ خدشہ ظاہر کيا جا رہا ہے کہ تازہ اقدامات کے نتيجے ميں ہنگری اور سربيا کی سرحد پر موجود مہاجرين کی تعداد ميں مزيد اضافہ ممکن ہے۔ حکام کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک غير قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوششوں کے دوران 17,062 مہاجرين کو پکڑا جا چکا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات