1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

يمن میں اسلحہ فيکٹری ميں دھماکہ: کم از کم 75 افراد مارے گئے

يمن ميں آج پیر کو دھماکہ خيز مواد تیار والی ايک فيکٹری ميں ایک زبردست دھماکہ ہوا، جس میں تازہ رپورٹوں کے مطابق کم از کم 75 افراد ہلاک ہو گئے۔

default

اس فيکٹری پر عسکريت پسندوں نے قبضہ کر ليا تھا۔ اس کے بعد عام شہريوں نے بھی وہاں لوٹ مار شروع کر دی تھی۔ یمن کے جنوبی صوبے ابيان ميں جہاں يہ فيکٹری ہے، سکيورٹی فورسز اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس ہولناک دھماکے ميں ارد گرد کے ديہات کے بہت سے بچے اور عورتيں بھی ہلاک ہو گئے۔

جار نامی قصبے کے قريب واقع اس فيکٹری پر، جس ميں سڑکوں کی تعمير کے دوران استعمال ہونے والا دھماکہ خيز مواد تيار کيا جاتا تھا، اتوار کے روز شدت پسندوں نے قبضہ کر ليا تھا۔

تاہم اپنے مطلب کی اشياء لينے کے بعد یہ عسکریت پسند وہاں سے چلے گئے تھے۔ سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد آج پیر کو بہت سے مقامی افراد بھی لوٹ مار کے لیے اس فيکٹری ميں گھس گئے تھے۔

Flash-Galerie Continuous anti-government protests in Yemen

عرب دنیا میں سر اٹھانے والے عوامی احتجاج کی بازگشت یمن میں بھی محسوس کی جاسکتی ہے

پیر کی شام تک موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی يمن کی اس فيکٹری ميں گولہ بارود بھی تيار کيا جاتا تھا۔ شروع میں اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں میں بتائی گئی تھی، پھر کم از کم 110 ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا۔ بعد ازاں دوبارہ کمی کرتے ہوئے یہ تعداد کم از کم 75 بتائی گئی۔ اس واقعے میں بیسیوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

يمن میں سرکاری حکام دہشت گرد تنظيم القاعدہ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہيں۔

کل اتوار کے روز امريکی وزير دفاع رابرٹ گيٹس نے کہا تھا کہ اگر یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت ختم ہو گئی اور اس کی جگہ کوئی بہت کمزور حکومت اقتدار میں آ گئی تو امریکہ کو اس عرب ریاست ميں مزيد مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM