1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ویڈیوز ’جعلی‘ ہیں، پاکستانی فوج

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ وہ ویڈیو جعلی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وردی میں ملبوس پاکستانی فوجی، نہتے جوان افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر رہے ہیں۔

default

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس

حکام کے مطابق ان ویڈیوز کے اصل ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ کہاں اور کب فلمائی گئیں۔

حال ہی میں منظرعام پرآنے والے دو ویڈیو کلپوں میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکار قطار میں کھڑے چھ نوجوانوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر رہے ہیں، ویڈیوز کے مطابق ان افراد کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں جبکہ ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کا کوئی بھی سپاہی اس قسم کی کارروائی میں شریک نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک دوسرے ترجمان سید عظمت علی نے بھی اس ویڈیو کی صداقت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا،’’اس طرح کی ویڈیوز صرف پانچ منٹ میں فلمائی جا سکتی ہے۔‘‘ انہوں نےکہا فوج کی وردیاں مارکیٹ میں بک رہی ہیں، جو کوئی بھی خرید سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان نے کہا ہے کہ اگرچہ ماضی میں انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پاکستانی فوج ماورائے عدالت ہلاکتوں میں مبینہ طور پر ملوث رہی ہے تاہم وہ اس ویڈیو کے اصل ہونے پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے ہیں۔

Flash-Galerie Pakistan: Soldaten in Lahore, Pakistan

پاکستانی فوجی دستے طالبان باغیوں کی سرکوبی کے لئے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں

امریکی حکام نے اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ اس ویڈیو کے بارے میں مکمل تحقیقات کروائی جائیں۔ یہ ویڈیوز دو کلپوں کی صورت میں انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا، ’’ہم نے اس مسئلے کو حکومت پاکستان کے ساتھ اٹھایا ہے۔‘‘ کراؤلی کے بقول وہ ان ویڈیوز کے اصل یا جعلی ہونے کے حوالے سے جامع تحقیقات کرانا چاہتے ہیں۔

بظاہرموبائل فون سے فلمائے گئے ان دو کلپوں کو انٹر نیٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے جہادیوں نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے سوات میں نہتے مسلمانوں کو ہلاک کیا ہے۔ یہ کلپ پہلی مرتبہ تئیس ستمبر کو سامنے آئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM