1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ویٹی کن کا اجلاس اسرائیل پر سیاسی حملے کی نشست بنا، یروشلم حکام

اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کے کیتھولک رہنماؤں کی جانب سے فلسطین تنازعے پر بیان کی مذمت کی ہے۔ یروشلم حکومت نے اس بیان کو ’سیاسی حملہ‘ قرار دیا ہے۔ یہ بیان کیتھولک بشپس کی روم میں منعقد کانفرنس کے اختتام پر جاری کیا گیا۔

default

مصری بشپ اور پوپ کی ملاقات

اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ ڈینی آیالون نے اتوار کو بشپس کے بیان کے ردِ عمل میں کہا، ’ہمیں اس بات پر بہت مایوسی ہوئی کہ ویٹی کن کا یہ اجلاس اسرائیل پر ایسے سیاسی حملے کا فورم بنا، جو عرب پروپیگنڈے کی تاریخ رہا ہے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اسرائیل مخالف اکثریت نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ آیالون نے کہا کہ انہیں ان بیانات سے ذاتی طور پر بہت دُکھ پہنچا۔ انہوں نے کہا، ’ہم ویٹی کن پر زور دیتے ہیں کہ وہ آرچ بشپ سرل سلیم بسٹروس کے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کرے، جو یہودی شہریوں اور اسرائیلی ریاست کے خلاف ہیں۔ ان بیانات کو ویٹی کن کا سرکاری مؤقف نہیں بننا چاہئے۔‘

ویٹی کن کے اجلاس کا اختتامی اعلامیہ جاری کرنے والے کمیشن کے سربراہ آرچ بشپ سرل سلیم

Papst Benedikt im Petersdom

پاپائے روم بینیڈکٹ شانزدہم

بسٹروس نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ وعدے کی سرزمین کے بارے میں بائبل کے موضوع کو اسرائیل میں یہودیوں کی واپسی اور وہاں سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے لئے بنیاد نہیں بنایا جانا چاہئے۔

خیال رہے کہ مذہبی نظریات رکھنے والے بیشتر یہودیوں کا خیال ہے کہ اسرائیلی سرزمین انہیں خدا کی طرف سے ملی ہے اور وہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد کاری کو درست قرار دینے کے لئے بائبل کے حوالے استعمال کرتے ہیں۔

تاہم روم میں طویل اجلاس کے بعد ہفتہ کو مشرقِ وسطیٰ میں کیتھولک کلیسا کے رہنماؤں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادیں تسلیم کرتے ہوئے عرب سرزمین کا ’قبضہ’ چھوڑ دے۔ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے مشرقِ وسطیٰ کے کلیسائی رہنماؤں (بشپس) کو مدعو کیا تھا، جن کا اجلاس دو ہفتے جاری رہا، جس میں اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ’ناانصافیوں‘ کو درست قرار دینے کے لئے بائبل کو استعمال نہ کرے۔

کلیسائی رہنماؤں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ 1967ء میں اختیار کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کرایا جائے، جس میں اسرائیل پر اسی برس چھ روزہ جنگ کے دوران حاصل کئے گئے عرب علاقوں کو چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’اسی صورت میں فلسطینی عوام کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست حاصل ہو سکے گی، جہاں وہ عزت اور سلامتی سے رہ سکیں جبکہ اسرائیل کو بھی امن اور سلامتی حاصل ہو گی۔’

دوسری جانب فلسطینی رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کے بشپس کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس