1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

وینکوور اولمپکس: میڈل ٹیبل پر سوئٹزرلینڈ آگے

کینیڈا کے شہر وینکوور میں جاری اکیسویں سرمائی اولمپک مقابلوں کے تیسرے روز یورپی وقت کے مطابق منگل کی صبح تک چودہ مختلف شعبوں میں فائنل مقابلے مکمل ہو چکے تھے اور سوئٹزرلینڈ سونے کے تین تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر تھا۔

default

خواتین کی تین ہزار میٹر کی دوڑ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی جرمن کھلاڑی شٹیفانی بیکرٹ

تب تک دوسرے اور تیسرے نمبر پر امریکہ اور فرانس تھے جن کے کھلاڑی سونے کے دو دو تمغے جیت چکے تھے۔ مجموعی طور پر وینکوور میں مقامی وقت کے مطابق پیر کی شام تک چودہ شعبوں میں سونے، چاندی اور کانسی کے کل بیالیس میڈل دئے جا چکے تھے اور اپنے کھلاڑیوں کے تمغوں کی مجموعی تعداد کے حوالے سے، جو آٹھ بنتی تھی، امریکہ پہلے نمبر پر تھا۔ ان میں سونے اور چاندی کے دو دو اور کانسی کے چار میڈل شامل تھے۔

Vancouver Didier Defago

ڈاؤن ہل ریس کے فاتح سوئس کھلاڑی ڈیفاگو

وینکوور اولمپکس کے تیسرے روز کے زیادہ تر مقابلے مکمل ہو جانے کے بعد میڈل ٹیبل پر جرمنی چوتھے نمبر پر تھا جس کے کھلاڑی تب تک چار میڈل جیت چکے تھے۔ ان میں سونے کا ایک اور چاندی کے تین میڈل شامل تھے۔

وینکوور کے نواح میں سائپریس ماؤنٹین کے مقام پر پیر کی شام مکمل ہونے والے مرد کھلاڑیوں کے اسنو بورڈنگ کے کراس مقابلوں میں پہلی پوزیشن امریکہ کے ٹونی ویسکاٹ نے حاصل کی۔ دوسرے نمبر پر کینیڈا کے مائیک روبرٹسن اور تیسرے نمبر پر فرانس کے ٹونی راموئیں رہے۔

امریکی کھلاڑی سیتھ ’ٹونی‘ ویسکاٹ کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ وہ ان مقابلوں میں اپنے اس اعزاز کا دفاع کر رہے تھے جو انہوں نے چار سال قبل اٹلی کے شہر ٹیورین میں اسنو بورڈنگ کراس مقابلوں میں گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کیا تھا۔

تینتیس سالہ اولمپک چیمپئین ویسکاٹ نے نہ صرف سائپریس ماؤنٹین میں اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ وہ ونٹر اولمپکس کی تاریخ میں اس شعبے میں دو مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی بھی بن گئے۔ وینکوور میں دوسری مرتبہ اولمپک چیمپئین بننے والے ٹونی ویسکاٹ اسنو بورڈنگ کے کراس مقابلوں کے عالمی چیمپئین بھی رہ چکے ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM