1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

وینس فلم میلہ، 22 فلموں کے درمیان مقابلہ

دنیا کے قدیم ترین فلمی میلے وینس فلم فیسٹیول میں گولڈن لائن ایوارڈ کی حصول کے لیے 22 فلموں کے درمیان سخت مقابلہ ہو گا۔ یہ فلم فیسٹیول 31 اگست سے دس ستمبر تک جاری رہے گا۔

default

جارج کلونی دنیا کے اس سب سے قدیم فلمی میلے وینس فلم فیسٹیول کا افتتاح "The Ides of March" یا مارچ کا وسط نامی سیاسی موضوع پر بنائی گئی فلم سے کریں گے۔ خیال رہے کہ "The Ides of March" رومن کیلنڈر میں پندرہ مارچ کو کہا جاتا ہے، جس سے مراد ’ماہ تمام‘ بھی لی جاسکتی ہے۔

Sofia Coppola Venedig Filmfestspiele Flash-Galerie

اس میلے میں 22 فلموں کے درمیان مقابلہ ہے

تیس اگست کی شام 50 سالہ کلونی جنہوں نے اس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، ریان گوسلینگ کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے ’دی ایڈیس آف مارچ‘ نامی اس فلم کو ڈائریکٹ بھی کیا ہے۔ یہ فلم Beau Willimon کے ڈرامے Farragut North سے ماخوذ ہے۔ اس فلم میں کلونی نے گورنر مائیک مورس کا کردار نبھایا ہے۔

وینس فلم فیسٹیول کا یہ 68 واں ایڈیشن ہے۔ گیارہ روزہ اس فلمی میلے کو ہالی وڈ کے بڑے ہدایت کاروں اور اداکاروں نے اپنی فلموں کی رونمائیوں کے لیےچنا ہے۔ان ہدایتکاروں اور فنکاروں نے اپنی فلموں کے افتتاح کے لیے اس میلے کا انتخاب اس لیے بھی ہے کہ عالمی سطح پر ان کی فلمیں ایک طرف تو توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں اور دوسری جانب وہ دنیا بھر کے اہم ایوارڈز کے حوالے سے بھی اسپاٹ لائٹ میں آ جائیں۔

دوسری جانب اس میلے کے حوالے سے رپورٹنگ کے لیے دنیا بھر کے ہزاروں صحافی بھی لیڈو جزیرے پر موجود ہیں، جہاں یہ فلمی میلا برپا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہزاروں فینز بھی اس جزیرے پر موجود ہیں، جو اپنے من چاہے فن کاروں کی صرف ایک جھلک کے متلاشی دکھائی دیتے ہیں۔

Filmfestspiele Venedig 2011

ہالی وڈ فنکار بھی اس میلے میں شریک ہیں

فلم فیسٹیول میں مایہ ناز فلم ڈائریکٹر رومن پولانسکی بھی شریک ہیں۔ اس بار وہ اپنی فلم ’کارنیج‘، جس میں کیٹ وینسلیٹ، جوڈی فوسٹر اور کرسٹوف والٹس نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، پیش کر رہے ہیں۔ اس فلم کا سکرین پلے انہوں نے گزشتہ برس نظربندی کے دوران مکمل کیا تھا۔ 78 سالہ پولانسکی کو گزشتہ برس سوئٹزرلینڈ میں ایک فلم فیسٹیول میں شرکت کے لیے پہنچے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سن 1977 میں امریکی شہر لاس اینجلس میں ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد میں امریکہ سے فرار ہو گیے۔ انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

اس فلمی میلے میں اس بار ’تحریر 2011 ‘ نامی ڈاکیومنٹری بھی شامل کی گئی ہے۔ اس فلم میں مصر میں آنے والے حالیہ انقلاب کو فلم بند کیا گیا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں عوامی احتجاج کی ایک بڑی لہر نے وہاں برسوں سے حکمران حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا، جب کہ یہی لہر بعد میں دیگر عرب ریاستوں میں بھی عوامی مظاہروں کا باعث بنی تھی۔

رپورٹ:  عاطف توقیر

ادارت:  شامل شمس

 

DW.COM