1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وینزویلا کے سیاسی بحران کا نیا رُخ، سپریم کورٹ بھی میدان میں

وینزویلا کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنے ایک فیصلے کے تحت پارلیمانی اختبارات سنبھالنے کی راہ ہموار کر لی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کو صدر نکولس مادُورو کے حلیف قرار دیے جاتے ہیں جب نیشنل اسمبلی میں اپوزیشن کو غلبہ حاصل ہے۔

Venezuela | Julio Borges zerreisst Dokumente des Obersten Gerichtshof (picture-alliance/AP Photo/A. Cubillos)

وینزویلا کی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی کو پھاڑتے ہوئے

وینزویلا کی اعلیٰ ترین عدالت نے بدھ انتیس مارچ کی شام میں اپنے فیصلے میں کہا کہ اراکین پارلیمنٹ مسلسل توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور دیے گئے فیصلوں کا احترام بھی نہیں کیا جا رہا لہذا اس صورت حال میں پارلیمانی اختیارات عدالت کو منتقل کر دیے جائیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو صدر نکولس مادُورو کی آمریت کی جانب ایک اور قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ وینزویلا کی اپوزیشن نے اس عدالتی فیصلے کو ایک ’بغاوت‘ قرار دیا ہے۔

اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا جب تک نیشنل اسمبلی توہین عدلت کے عمل سے گریز نہیں کرتی اور بے یقینی کی صورت حال کو ختم نہیں کرتی تب تک پارلیمانی اختیارات براہ راست سپریم کورٹ کو منتقل کر دیے جائیں یا پھر کوئی دوسرا ادارہ جو قانون کے احترام کا ذمہ دار ہو، اُسے منتقل کر دیے جائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا کی سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک میں جاری سیاسی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ عوامی غضب کی لپیٹ میں جج نہ آ جائیں۔

Venezuela Caracas Prasident Nicolas Maduro (Reuters/Miraflores Palace)

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو

اس صورت حال پر دو امریکی براعظموں کے چونتیس ملکوں کی تنظیم او اے ایس کے سیکرٹری جنرل لُوئیس المارگو کا کہنا ہے کہ یہ پوری طرح سے دستورکا انحراف اور کسی حد تک اِسے ’بغاوت‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ امریکا، برازیل، میکسیکو، ارجنٹائن، چلی اور کولمبیا کی جانب سے اِس  عدالت عمل کی مذمت سامنے آ چکی ہے۔

کل جمعرات کو نیشنل اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے عدالتی فیصلے کے کاپیوں کو پھاڑ کر پھینک دیا اور مادورو حکومت کے مخالف اراکین مسلسل صدر کی آمریت کو ماننے سے انکار کرتے رہے۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونٹی کے اراکین نے عدالتی فیصلے کو ’کچرا‘ قرار دیتے ہوئے اسے عوام کے حقوق اور آزادی پر ’عدالتی سرقہ‘ قرار دیا۔ اپوزیشن کے اراکین نے ملکی فوج کے سربراہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحرانی صورت حال میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ وینزویلا کی فوج اور سپریم کورٹ کو صدر نکولس مادورو کے حامی خیال کیے جاتے ہیں۔